مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 53
مکتوبات احمد ۵۳ جلد مکتوب نمبر ۵ نقل مکتوب حضرت اقدس که بر پشت مکتوب من نوشته بود این است ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مکتوب شما بغور خواندم نزدم بحکم آیت کریم لا تُلْقُوْا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ' کہ معذور هستید جان خود ناحق تلف کردن و ایمان را در معرض خطر انداختن روا نیست نبویسید که من از اطاعت شما بیرون نیستم - واز دل و جان تا حکم شریعت اطاعت شما می کنم ۔ لیکن چون در آمدن جان خود را در معرض می بینم - ازین وجه معذورم - ازین پیش آنچه بمولوی عبداللطیف کرده اند مخفی نیست و من در آن ملک در این امر شهرت دارم که از جماعت مولوی عبداللطیف هستم و در سلسله احمد یہ داخلم - بان بهتر است که زوجه من نزد من بیاند هیچ مانع نیست غرض در رفتن خطر است در آن ملک خوف خدا نیست و مردم وحشی سیرت هستند ترجمه از ناشر ( حضرت اقدس کے مکتوب کی نقل جو کہ میرے مکتوب کے پیچھے لکھا گیا تھا یہ ہے ) والسلام مرز اغلام احمد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا مکتوب میں نے غور سے پڑھا ہے۔ میرے نزدیک بحکم آیت کریمہ لَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ کہ آپ معذور ہیں اپنی جان کو ناحق ضائع کرنا اور اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنا جائز نہیں ہے۔ آپ لکھ دیں کہ میں آپ کی اطاعت سے باہر نہیں ہوں اور دل وجان سے شریعت کے حکم کے مطابق آپ کی اطاعت کرتا ہوں لیکن چونکہ آنے کی صورت میں اپنی جان کو خطرے میں دیکھتا ہوں اس وجہ سے معذور ہوں ۔ اس سے پہلے جو مولوی عبداللطیف صاحب سے اُنہوں نے کیا ہے وہ مخفی نہیں ہے اور میں اُس ملک میں اس بات کے متعلق شہرت رکھتا ہوں کہ میں مولوی عبداللطیف صاحب کی جماعت سے ہوں اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوں ۔ ہاں بہتر ہے کہ میری بیوی میرے پاس آ جائے کچھ مانع نہیں ہے۔ غرضیکہ جانے میں خطرہ ہے۔ اُس ملک میں خدا کا خوف نہیں ہے اور لوگ وحشی سیرت ہو گئے ہیں۔ ا البقرة : ١٩٦ بدر نمبر ۲۷ جلد ۶ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۰۷ ء صفحہ ۹۰۸ والسلام مرز اغلام احمد