مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 51
مکتوبات احمد ۵۱ جلد پنجم ترجمه از ناشر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ بحضور جناب حضرت اقدس رسول اللہ وخلیفة اللہ مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوۃ والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعد ، بندہ خاکسار کی عرض یہ ہے کہ میرے والد صاحب کی طرف سے خط آیا ہے۔ اُس کی نقل میں نے اس خط کے پیچھے لکھ دی ہے لیکن اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ تم ضرور اپنے گھر آجاؤ اور اگر نہ آئے تو آخرت کے دن میں تم سے بیزار ہو جاؤں گا اور میرا دل تم سے ناراض ہے اور میرے خود بھی اس امر میں بہت سارے عذر ہیں پہلا یہ ہے کہ میں حضور حضرت اقدس سے دور ہو جاؤں گا اور یہ میرے دل میں قتل سے اور ہر مصیبت سے اور ہر گھاٹے سے بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے اور پھر یہ کہ قرآن شریف کا سبق پڑھتا ہوں ۔ کچھ پڑھا ہے اور زیادہ باقی رہتا ہے اور اسی طرح حضرت اقدس کی کتب کا مطالعہ کرتا ہوں ۔ تھوڑا تھوڑا مطالعہ کیا ہے زیادہ باقی پڑا ہے اور یہ دونوں اُس ملک میں حاصل نہیں ہو سکتے۔ میں محروم ہو جاؤں گا۔ یہ بھی قتل سے بدتر اور شدید تر ہے اور یہ کہ میرے ملک میں جان کی ہلاکت کا خوف بھی ہے اور دین کی ہلاکت کا خوف بھی ہے اور دونوں کو میں نے خود بخود محسوس کر لیا ہے اور تجربہ کیا ہوا ہے جس طرح کہ صاحب نور مرحوم احم نور کا بھائی اپنے ملک آیا تھا اُس کے پیچھے بہت سپاہی لگا دیئے گئے تھے لیکن بھاگ جانے کی وجہ سے جان بچ گئی وگر نہ قتل کر دیا جاتا اور میں خود اپنے ملک میں حضرت مسیح موعود کی مریدی کے سلسلہ میں صاحب نور مرحوم سے کم شہرت نہیں رکھتا بلکہ اُس سے بھی زیادہ مشہور ہوں اس لئے سابقہ زمانہ میں شہید عبدالرحمن کے ہمراہ یہاں آیا تھا اور بیعت میں داخل ہوا تھا اور میرے وطن میں لوگوں کو میرے حال کا بخوبی علم ہے اور اسی طرح میں نے اپنے حق میں یہ تجربہ کیا ہوا ہے اور محسوس کیا ہوا ہے کہ شہید مرحوم کی شہادت کے بعد اس ملک کے مولویوں نے میرے ساتھ بہت سارے جھگڑے کئے ہیں اس لئے کہ میں اُس ملک میں روز روشن کی طرح آشکار ہو چکا ہوں کہ یہ شہید مرحوم کے پیرو اور مریدوں میں سے ہے۔ بہت سختیاں اور خوف میں نے اپنے اوپر برداشت کئے ہیں کیونکہ میرے والد صاحب نے بھی اُس وقت یہی کہا تھا کہ اگر تم چلے گئے تو میں تم سے ناراض ہوں گا ۔ لاچاری کے سبب میں دین کے کام کو