مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 553 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 553

مکتوبات احمد ۵۵۳ جلد مکتوب ۱۷ مارچ ۱۹۰۸ء کو ایک صاحب علاقہ بلوچستان نے حضرت اقدس کی خدمت میں خط لکھا کہ آپ کا ایک مرید نور محمد نام میرا دلی دوست ہے ۔ وہ بڑا نمازی ہے ، نیکو کار ہے ۔ سب اس کی عزت کرتے ہیں ۔ ہمہ صفت موصوف خلیق شخص ہے ۔ دیندار ہے ۔ اس سے ہم کو آپ کے حالات معلوم ہوئے تو ہمارا عقیدہ یہ ہو گیا ہے کہ حضور بڑے ہی خیر خواہ امت محمد یہ و مداح جناب رسول مقبول و اصحاب کبار ہیں ۔ آپ کو جو بُرے نام سے یاد کرے وہ خود بُرا ہے مگر باوجود ہمارے اس عقیدہ و خیال کے نور محمد مذکور ہمارے ساتھ باجماعت نماز نہیں پڑھتا اور نہ جمعہ پڑھتا ہے اور وجہ یہ بتلاتا ہے کہ غیر احمدی کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی ۔ آپ اس کو تاکید فرماویں کہ وہ ہمارے پیچھے نماز پڑھ لیا کرے تا کہ تفرقہ نہ پڑے کیونکہ ہم آپ کے حق میں برا نہیں کہتے ۔ یہ اس خط کا اقتباس اور خلاصہ ہے ۔اس کے جواب میں اسی خط پر حضرت نے عاجز کے نام تحریر فرمایا۔ جواب میں لکھ دیں کہ چونکہ عام طور پر اس ملک کے ملاں لوگوں نے اپنے تعصب کی وجہ سے ہمیں کافر ٹھہرایا ہے اور فتوے لکھے ہیں اور باقی لوگ ان کے پیرو ہیں ۔ پس اگر ایسے لوگ ہوں کہ وہ صفائی ثابت کرنے کے لئے اشتہار دے دیں کہ ہم ان مکفر مولویوں کے پیرو نہیں ہیں تو پھر ان کے ساتھ نماز پڑھنا روا ہے ورنہ جو شخص مسلمانوں کو کافر کہے وہ آپ کا فر ہو جا تا ہے پھر اس کے پیچھے نماز کیونکر پڑھیں یہ تو شرع شریف کی رُو سے جائز نہیں ہے ۔ ،، لے یعنی حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ ایڈیٹر ” بدر (مرتب) ملفوظات جلد پنجم صفحه ۴۷۸