مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 551
مکتوبات احمد ۵۵۱ جلد پنجم گے کہ قرآن جو قیامت تک دو قوموں کا غلبہ قرار دیتا ہے ایک اہل اسلام اور دوسرے نصاری اور جیسا کہ ابھی ذکر ہوا حدیث صاف بتلاتی ہے کہ حضرت مسیح کسر صلیب کے لئے آئیں گے یعنی صلیب کے غلبہ کے وقت اس حدیث اور قرآن کی اس آیت سے یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ دجال کی حدیث بالکل جھوٹی اور مردود ہے جو شخص اس کو مانتا ہے ۔ اس کو قرآن کا انکار کرنا پڑے گا اور حدیث یكسر الصليب کا بھی انکار کرنا پڑے گا اس لئے یہ حدیث اس لائق نہیں ہے کہ ہم اس کا کچھ جواب دیں۔ ۱۴۔ اور یہ حدیث جو آپ نے لکھی ہے کہ مہدی فلاں خاندان سے اور اس کے باپ کا نام یہ ہو گا ۔ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ یہ حدیثیں کل مردود اور موضوع ہیں قابل توجہ نہیں ہیں ۔ کیونکہ قرآن اور احادیث صحیحہ کے مخالف ہیں جبکہ یہ حدیث اسی صحاح ستہ میں موجود ہے کہ لا مهدی الا عیسی تو پھر اس حدیث کے ماننے کے بعد یہ ماننا پڑتا ہے کہ اس کے مخالف جس قدر حدیثیں ہیں وہ صحیح نہیں ہیں اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں ۔ یہ صحیح بڑے پایہ کی حدیث ہے۔ کیونکہ اس میں وہ اختلاف اور غیر معقولیت نہیں پائی جاتی جو دوسری حدیثوں میں پائی جاتی ہے یعنی ایک ہی وقت میں دو خلیفے مقرر کرنا اور ہمارے سامنے یہ پیش کرنا کہ مہدی بنی فاطمہ ہی سے ہو گا یا فلاں خاندان سے ہو گا عبث ہے ۔ ہم کب یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم وہ مہدی ہیں جو ان صفات کا ہوگا بلکہ ایسے مہدی کے وجود سے ہم قطعاً منکر ہیں اور کوئی صحیح اس کی تائید میں پیدا نہیں ہوتی ۔ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم وہ مہدی ہیں جو مسیح بھی ہے اور ظاہر ہے کہ مسیح کے لئے ضروری نہیں کہ بنی فاطمہ سے ہو اصل بات یہ ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی حدیثیں عباسی سلطنت کے عہد میں بنائی گئی ہیں اسی واسطے بعض نے ان میں سے اپنا لقب مہدی رکھا تھا اور اس مہدی کے متعلق جو بنی فاطمہ سے سمجھا گیا ہے جسقدر قصے ایک ناول کے طور پر بنائے گئے ہیں جن میں سے بعض کا آپ نے ذکر بھی کیا ہے ۔ یہ تمام قصے غلط اور لغو ہیں اور صریح قرآن کے مخالف ہیں ۔ بھلا یہ کیونکر ہو کہ مہدی تو آ کر لڑائیوں کا ایک طوفان برپا کر دے گا اور مسیح کے حق میں یہ لکھا ہو کہ یضع الحرب یعنی لڑائیوں کی صف لپیٹ دے ایک کا مقصد کچھ اور اور دوسرے کا مقصد کچھ اور اور دونوں ایک ہی وقت میں ۔ حدیث