مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 543
مکتوبات احمد ۵۴۳ جلد پنجم ہے بلکہ ایسا دعوی نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے اور نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں ہمیشہ یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعوی نہیں ۔ اور یہ سرا سر میرے پر تہمت ہے اور جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں ۔ وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا کی ہمکلامی سے مشرف ہوں ۔ وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو۔ دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا ۔ اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں ۔ اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا ۔ اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے۔ تو میں کیوں کر انکار کر سکتا ہوں ۔ میں اس پر قائم ہوں ۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں ۔ مگر میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ گویا میں اسلام سے اپنے تئیں الگ کرتا ہوں ۔ یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتا ہوں ۔ میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا۔ اور کسی کو مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کا منسوخ کر سکے ۔ سو میں صرف اس وجہ سے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشگوئی کرنے والا اور بغیر کثرت کے یہ معنی تحقیق نہیں ہو سکتے ۔ جیسا کہ صرف ایک پیسہ سے کوئی مالدار نہیں کہلا سکتا ۔ سو خدا نے مجھے اپنے کلام کے ذریعہ بکثرت علم غیب عطا کیا ہے۔ اور ہزار ہا نشان میرے ہاتھ پر ظاہر کئے ہیں اور کر رہا ہے۔ میں خودستائی سے نہیں بلکہ خدا کے فضل اور اس کے وعدہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ اگر تمام دنیا ایک طرف ہو اور ایک طرف صرف میں کھڑا کیا جاؤں ۔ اور کوئی ایسا امر پیش کیا جائے ۔ جس سے خدا کے بندے آزمائے جاتے ہیں ۔ تو مجھے اس مقابلہ میں خدا غلبہ دے گا ۔ اور ہر ایک پہلو کے مقابلہ میں خدا میرے ساتھ ہوگا۔ اور ہر ایک میدان میں وہ فتح دے گا ۔ پس اسی بنا پر خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ اس زمانہ میں کثرت مکالمہ مخاطبہ الہیہ اور کثرت اطلاع پر علوم غیب صرف مجھے ہی عطا کی گئی ہے۔ اور جس حالت میں عام طور پر لوگوں کو خواہیں بھی آتی ہیں ۔ بعض کو الہام بھی ہوتا ہے۔ اور کسی قدر ملونی کے ساتھ علم غیب سے بھی اطلاع دی جاتی ہے۔ مگر وہ الہام مقدار