مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 46
مکتوبات احمد ۴۶ جلد: مکتوب نمبر ۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ این عاجز از صبح بیمار است اسهال و پیچش است از این باعث در این امر زیاده نتوانم نوشت حق الامر این است که در آیه ثلةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ ، آن واقعه است که در آن زمان به ظهور آمده و مراد این است که آنانکه در اول حالت اسلام با وجود قلت جماعت وصد ها مصائب و شدائد داخل اسلام شدند و از همه نوع مصیبت ها دیدند و صدق و وفا خود ظاهر نمودند و جان ہائی خود درین راه دادند یا برای دادن طیار شدند آن گروه مقربین است لیکن این صورت اخلاص آنان را کم میسر آمده که در حالت فتح و نصرت اسلام و خاتمه مصائب داخل اسلام شدند پس از یشان مقربان کم هستند و همین قاعده بزمانه سیح عاید می شود ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ☆ ترجمه از ناشر مرزا غلام احمد بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ یہ عاجز صبح سے بیمار ہے۔ اسہال اور پیچش ہے جس کی وجہ سے اس بارہ میں زیادہ لکھ نہیں سکتا حقیقت امر یہ ہے کہ آیت ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ وہ واقعہ ہے کہ جو اس زمانہ میں ظہور میں آیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو اسلام کی اوائل کی حالت میں جبکہ جماعت تھوڑی سی تھی اور سینکڑوں مصائب و شدائد تھے اسلام میں داخل ہوئے اور ہر قسم کی مصیبتوں کو دیکھا اور اپنے صدق و وفا کو دکھایا اور اپنی جانوں کو اس راہ میں قربان کر دیا وہ مقربین کا گروہ ہے لیکن یہ اخلاص کی صورت اُن لوگوں کو کم میسر ہوئی ہے جو اسلام کی فتح و نصرت کی حالت میں اور مصائب کے ختم ہونے پر اسلام میں داخل ہوئے ۔ پس اُن میں سے مقربین تھوڑے ہیں اور یہی قاعدہ مسیح کے زمانہ میں عاید ہوگا ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ ا الواقعة : ۱۵،۱۴ بدر نمبر ۳۸ جلد ۶ مورخه ۱۹ استمبر ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷ مرزا غلام احمد