مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 526
مکتوبات احمد ۵۲۶ جلد پنجم طرف کھینچتے ہیں۔ اور خالی اندرونوں کو متاع معارف کے دیتے ہیں۔ اور اپنے تقدس کے سبب سے کمزوریوں کو اس دنیا سے بسلامتی ایمان لے جاتے ہیں ۔ دوسرا وہ آدمی ہے۔ جنہوں نے نہ اتفاق اور بخت سے بلکہ بمتقضاء جو ہر قابل کے (یعنی ان میں مادہ بادشاہی کا خدا نے دیا ہوا تھا کہ ضرور بادشاہ بنے ) خدا کی طرف سے سلطنت ا اور بادشاہت حاصل کی اور حکمت اور مصلحت خدا وندی ان کو اپنی ذات کا قائم مقام اور ان کے احکام کو اپنے قضاء قدر کا مظہر بناتی ہے اور کئی ہزار جان اور مال و آبرو کی ان کے سپرد کرتی ہے۔ ضرورۂ یہ لوگ شفقت اور رحم اور چارہ سازی دردمنداں اور غریبوں و بیکسوں کے حال پر نگران اور حمایت اسلام و مسلماناں میں خدا کا سایہ ہوتے ہیں ۔ اس فقیر کا یہ حال ہے کہ وہ خدا جو بروقت بہت مفاسد اور گمراہی کے مصلحت عام کے واسطے اپنے بندوں میں سے کسی بندہ کو اپنا خاص بنا لیتا ہے۔ تا اس کے ذریعہ گمراہوں کو ہدایت ہو۔ اور اندھوں کو روشنی اور غافلوں کو توفیق عمل کی دی جائے اور اس کے ذریعہ دین اور تعلیم معارف و دلائل کی تازہ ہو۔ اُسی خدائے کریم و رحیم نے اس زمانہ کو زمانہ پُرفتن اور طوفان ضلالت و ارتداد کو دیکھ کر اس ناچیز کو چودھویں صدی میں اصلاح خلق اور اتمام حجت کے واسطے مامور کیا۔ چونکہ اس زمانہ میں فتنہ علمائے نصاری کا تھا۔ اور مدار کار صلیب پرستی کے توڑنے پر تھا۔ اس واسطے یہ بندہ درگاہ الہی مسیح علیہ السلام کے قدم پر بھیجا گیا ۔ تا وہ پیشگوئی بطور بروز پوری ہو ۔ کہ جو عوام میں مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی بابت مشہور ہے۔ قرآن شریف صاف ہدایت فرماتا ہے۔ کہ دُنیا سے جو کوئی گیا وہ گیا۔ پھر آنا اس کا دُنیا میں ممکن نہیں ۔ البتہ ارواحِ گذشتگان بطور بروز دنیا میں آتی ہیں۔ یعنی ایک شخص ان کی طبیعت کے موافق پیدا کیا جاتا ہے ۔ اس واسطے خدا کے ہاں اُس کا ظہور اُسی کا ظہور سمجھا جاتا ہے ۔ دوبارہ آنے کا یہی طریق ہے ۔ کہ صوفیوں کی اصطلاح میں اس کو بروز کہتے ہیں ۔ ورنہ اگر مردوں کا دو بار آنا روا ہوتا تو ہم کو بہ نسبت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے حضرت سید الوری خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ ضرورت تھی ۔ لیکن آنحضرت نے ہرگز فرمایا نہیں کہ میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا۔ ہاں یہ فرمایا۔ کہ ایک شخص ایسا آئیگا کہ وہ میرا ہم نام ہو گا ۔ یعنی میری طبیعت اور خو پر آئے گا۔ پس مسیح علیہ السلام کا آنا بھی ایسا ہی ہے نہ ویسا کہ اس کا نمونہ دُنیا کے اول اور آخر میں موجود