مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 513 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 513

مکتوبات احمد الله جلد پنجم ( مدت سے ایک افغان ایک ایسے علاقہ کا رہنے والا جہاں اپنا عقیدہ و ایمان کے اظہار موجب قتل ہو سکتا ہے ۔ اس جگہ قادیان میں دینی تعلیم کے حصول کے واسطے آیا ہوا ہے ۔ حال میں اس کے والدین نے اس کو اپنے وطن میں طلب کیا ہے ۔ اب اس کو ایک مشکل پیش آئی کہ اگر وطن کو جائے تو خوف ہے کہ مبادا وہاں کے اس بات سے اطلاع پا کر کہ یہ شخص خونی مہدی اور جہاد کا منکر ہے۔ قتل کے درپے ہوں اور اگر نہ جاوے تو والدین کی نافرمانی ہوتی ہے ۔ پس اس نے حضرت سے پوچھا کہ ایسی حالت میں کیا کروں ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا ) مکتوب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ چونکه در قرآن سیر تلف در آن امور که مخالف شریعت نه باشند - حکم اطاعته اطاعت والدین است - لہذا بهتر است که این قد ر ا طاعت کنند که همراه شان روند و آن جا چومحسوس شود که اندیشه قتل یا جبس است ۔ بلا توقف باز بیایند چرا که خود را در معرض هلاک انداختن جائز نیست ۔ ہم چنین مخالفت والدین ہم جائز نیست پس در این صورت هر دو حکم قرآن شریف بجا آورده می شود والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ترجمه از ناشر ☆ مرز اغلام احمد چونکہ قرآن شریف میں ان امور جو شریعت کے مخالف نہیں ہیں ان میں والدین کی اطاعت کا حکم ہے ۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ اس قدر اطاعت کریں کہ جو ان کے ہمراہ چلے اور جس جگہ ایسا محسوس ہو کہ قتل یا قید کا اندیشہ ہو بلا توقف اس سے رُک جائیں کیونکہ اپنے آپ کو معرض ہلاکت میں ڈالنا جائز نہیں ہے اور ایسے کاموں میں والدین کی مخالفت بھی جائز ہے۔ پس اس صورت میں قرآن کریم کے ہر دوا حکام کی تعمیل ہوتی ہے۔ بدر نمبرے جلد ۶ مورخه ۱۴ / فروری ۱۹۰۷ ء صفحه ۴ والسلام مرزا غلام احمد