مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 497 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 497

مکتوبات احمد ۴۹۷ جلد پنجم ہوں کہ اپنے اس مختصر جواب کلام کو ختم کروں ۔ سوال یہ ہے کہ بُت پرستی کی تعریف کیا ہے؟ اب میرے نکتہ کلام کو غور سے سن کر سمجھنا چاہیے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بتوں کو آنکھوں کے سامنے رکھنا کفار کے زعم میں ایک مقصد کے حصول کے لیے ہے اور شریعت کی زبان میں اسی غرض کا نام استعانت ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر ان آیات ربانی کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی جو عبادت تو میری کرے اور استعانت بُت سے طلب کرے تو اس نے در حقیقت بت کی پوجا کی ۔ کیونکہ میں تو محتاج عبادت نہیں ہوں یعنی وجوب عبادت انسان کی حاجت روائی کے لیے ہے کیونکہ عبادت کے معنی مدد طلب کرنا اور اس مدد کا شکر بجالانا ہے اور اگر انسان کو مددمن جانب اللہ نہ پہنچے تو ہلاک ہو جائے ۔ لہذا کلام اللہ میں یہ تحریر ہے کہ عبادت باعث حیات انسان اور موجب بقائے بنی آدم ہے۔ اگر غیب سے ہر دم مدد نہ پہنچے تو تو ایک لمحہ کے لیے بھی از خود قائم نہیں رہ سکتا ۔ ** اور انسان راستی ، میانہ روی، استقامت دل اور وصالِ حق کے لیے زیادہ تر محتاج استعانت ہے۔ پس اگر انسان کہے کہ میری یہ حاجت بت کی دستگیری اور اعانت سے پوری ہوئی ہے تو اس انسان نے خوداپنی عبادت کی اور خدا کو ایک متاع کے طور پر فرض کیا جو وسیلہ بہت سے دستیاب ہوگا۔ فقط حیات احمد جلد اول صفحه ۲۶۲ تا ۲۷۲ از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی مطبوعه نظارت اشاعت