مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 494 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 494

مکتوبات احمد ۴۹۴ جلد پنجم میں کہتا ہوں کہ اس درجہ معرفت سے کیا مراد ہے؟ اگر یہ اسماء صفات باری جاننے سے تعبیر ہیں تو اس کا اجمال تو خود دل کے اندر ہی نقش ہے جس کی تفصیل کلام ربانی کی پیروی سے حاصل ہوتی ہے اور اگر درجہ معرفت سے مراد دراصل فانی فی اللہ ہونا ہے جو انبیاء و اولیاء کا وصف ہے۔ تو جاننا چاہیے کہ وہ مقام ا مقام انسان کے اختیار سے بلند تر ہے اور اس میں حکمت و تدبیر پیش نہیں جاتی ۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ تلاوت کلام ربانی سے حق تعالیٰ کا ارادہ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ وحدت باری پر ایمان لانے اور اسکی تمام صفات کے اقرار کے لیے دستِ تقدیر نے ایک قوت انسان کے دل میں تحریر کر دی ہے اور وہی قوت ایمان لانے کا باعث ہے ایک پہلو سے یہ قوت عبادت بجالانے کے لیے دی گئی ہے اور وہی فریضہ عبادت بجالانے کا مکلف بناتی ہے جہاں تک انسان کا تعلق ہے وہ بذات خود قرب و وصال حق کے لیے طاقت نہیں رکھتا اور انسان کو انوار الہی کے حقائق کا علم حاصل کرنے کی (ذاتی طور پر ) طاقت و مقدرت نہیں ہے کیونکہ خدا محکوم نہیں ہے کہ انسان کے ارادہ کے تابع ہو اور انسان حاکمِ خدا نہیں کہ انوار ایزدی کے خزانہ میں دخل اندازی کر سکے ۔ پس ایک ذرہ امکان محیط العالمین کی ذات والا پر کس طرح محیط ہو اور ایک حقیر مخلوق ہر چیز کے پیدا کرنے والے کو کس طرح دریافت کرے سوائے اسکے کہ وہ خود اپنی ذات کا جلوہ کسی کو دکھلائے اور دوسرے یہ کہ وہ خود اس کے دل کو منور کر دے ۔ لہذا تقاضائے رحمت ایزدی نے خداوند متعال کی طرف سے خود استعانت کی اجازت بخشی ۔ یہی مضمون ہے کہ جب بھی ہم نماز قائم کریں تو چاہیے کہ اسماء وصفات حق تعالیٰ کے تصور سے ہر چیز کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اپنے دل کو ظلمات حیرت میں ڈالیں اور اس وقت اپنے خدا سے استعانت کے طلب گار بنیں کہ اے خدایا ! ہم نے محسوسات کے نشیب گاہ سے حتی المقدور اپنے آپ کو باہر نکال کر خود کو تیرے جلال کے تصور کی طرف کھینچا ہے لیکن اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہم اُس درگاہ عالی تک نہیں پہنچ سکتے اب تیری مدد کے منتظر ہیں۔ لیکن جاننا چاہیے کہ یہ تصور استعانت اس طرح روح و دل کے ساتھ ظلمات حیرت میں یکجا ہو جائے کہ گویا روح و دل ہی صورت تصور ہے۔ یہ ہم بنی آدم کی انتہا درجہ کی کوشش ہے اسکے بعد معرفت کے درجہ پر پہنچانا اور اپنی طرف کھینچنا خدا کا کام ہے۔ چنانچہ آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اسی استعانت کی جانب اشارہ