مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 492 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 492

مکتوبات احمد ۴۹۲ جلد پنجم اب اس کلام کے ذیل میں بت پرستوں کے اوہام کا ازالہ تحریر کیا جارہا ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے ۔ اس رسالے کے پہلے صفحہ کی ساتویں اور آٹھویں سطر میں یہ کہتے ہیں کہ خدائے بے مثل ان تین اجسام سے مجسم ہوا پھر بھی اس وحدانیت کا دامن غبار آلود نہیں ہوا۔ میں کہتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ کا واحد ہونا اور اسکا تمام موجودات پر محیط ہونا اور اسکا غیر محدود ہونا اور ازل سے ابد تک اس کا یکساں ہونا اور سب سے بزرگ تر ہونا وغیرہ جو صفات رکھتا ہے اسکی یہ تمام صفات روز اوّل سے ہمارے دل پر نقش ہیں اور ہماری روحیں اور قلوب اس کی قرارگاہ اور آرام گاہ ہو چکے ہیں اور اسکی تمام صفات ہمارے دل کا مرجع اور ہمارے دل ان صفات سے مانوس ہیں ۔ اور کفار کا خدا کے مجسم اور تین وجود ماننا اور انہیں بیوی بچوں اور ماں باپ والا کہنا ان کا صرف زبانی دعوئی ہے اور دل کو اس کے تسلیم سے کچھ حصہ نہیں ۔ پس اس سے بڑھ کر تکلیف دہ بات اور کیا ہوگی کہ وہ جن امور کو حق تعالیٰ کی ذات میں گمان کرتے ہیں ، دل کی شہادت اس پر نہیں ہے اور اگر اس غبار سے مراد وہ غبار ہے جو تودۂ خاک سے حاصل ہوتا ہے تو یہ امر دیگر ہے۔ واضح ہو کہ ایمان لانے کے لیے دل کی شہادت ضروری ہے کیونکہ روایات کا دامن کذب سے آلودہ ہونے کا احتمال ہو سکتا ہے اور ربانی کلام کی نشانی یہی ہے کہ اسکی تعلیمات کی سچائی پر دل گواہی دے۔ پس خدائے کریم و رحیم جو کہ عادل و منصف ہے اسطرح کی تکلیف مالا يطاق کو جس کے صدق و کذب کا دل پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا کس طرح تجویز کرے گا ۔ باوجود یکہ اس اعتقاد پر تمام ہندو متفق نہیں؟ ہندو مؤرخین یہ کہتے ہیں کہ یہ تینوں اشخاص ہم عصر تھے اور لوگوں کے ساتھ ملتے جلتے ، کھاتے پیتے ، بول و براز کرتے تھے اور اپنی بیویوں سے تعلقات قائم کرتے نیز ان سے امور فواحش بھی سرزد ہوئے۔ چنانچہ ہنود کی کتب کے مطالعہ کرنے والوں پر یہ تمام بیان مخفی نہیں ہے۔ اور اس قوم کے تاویل کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ تینوں فرشتے تھے جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور ان کے دانشور کہتے ہیں کہ یہ تینوں زمانہ کے نام ہیں ، اور وہ زمانہ کو تین جزو میں تقسیم کرتے ہیں ۔ ملل و نحل اور مصنف اور دبستان کے مصنفین یہ کہتے ہیں کہ ہندوؤں میں سے ایک فرقہ ان تینوں اشخاص کے بارہ میں کہتا ہے کہ یہ خصیتین و آلہ تناسل سے تعبیر ہیں اور پھر وہ دلائل میں