مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 453
مکتوبات احمد لده الله جلد پنجم حالانکہ اُس کے مضمون کی تصدیق زیادہ چھ سو سال ہوئے ہو چکی مگر تعجب کہ ہنوز اہل اسلام اُس کے منتظر ہیں کیونکہ بعد صلح ہارون رشید شارلیمن کے اہل روم نے عذر کیا کہ موضع ذی تلول پر میکائیل ہفتم آیا اور اُس نے کہا کہ آج صلیب کو غلبہ ہے پس طغرل ایک مرد مسلمان کو غصہ آیا اور اُس نے اُس کو تکا بوٹی کر ڈالا پھر بنی اصفر اتنی کمپوں سے جس میں دس لاکھ فوج تھی چڑھی اور مسلمانوں کو شہید کر کے بیت المقدس پر اٹھاسی سال تک غالب رہی مگر خوفناک انتہی موضع الحاجة ۔ اور یہ غلبہ نصاری کا آخر صدی پنجم یعنی ۴۹۷ ھ میں بموجب حدیث ذی مخبر کے واقع ہوا اور چونکہ اس غَلَبَت کے بعد سَيُغْلَبُونَ پیشین گوئی موجود ہے لہذا صلاح الدین کے عہد سلطنت میں روم نصاری پھر مغلوب ہو گیا اور صلاح الدین نے ۵۸۳ھ میں روم کو فتح کر لیا دیکھو تو اریخ کو اس صورت میں چونکہ صلاح الدین بھی ایک بادشاہ حامی اسلام تھا لہذا بسبب اپنے صلاح و تقویٰ کے وہ بھی ایک معنی کر کر مہدی یعنی ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے مگر یہ پیشین گوئی جو قرآن مجید سے بموجب ایک قراءت غیر متواترہ کے بطور ایک لطیف استنباط کے مستنبط ہوتی ہے متعلق خلافت اور سلطنت کے ہے اس خاتم الخلفاء مہدی آخر الزمان سے جس کی نسبت لا مهدي الا عيسى وارد ہے کچھ تعلق نہیں رکھتی کیونکہ ہمارے ادلہ نصوص صریحہ ہیں نہ ایسے خفی اور دقیق اور پھر اس مہدی کی نسبت صحیح بخاری میں يضع الحرب وارد ہے۔ الحاصل فتح روم کے متعلق اگر کوئی روایت ہے تو اس کی اصل حقیقت صرف اسی قدر ہے جو قرآن مجید سے مستنبط ہے اور حدیث ذی مخبر سے مفہوم ہوتی ہے دگر هیچ مؤلفین رسائل نے حقیقت اس پیشین گوئی کی بالکل نہیں سمجھی اور اس پر علاوہ یہ کہ اپنے خیالات کی بموجب جو مہدی کے بارے میں رکھتے ہیں ان روایات مختلفہ کی شرح کر دی ہے جس سے عوام لوگ دھو کہ میں پڑ گئے ہیں ۔ دگر بیچ۔ دوسرے سوال کی نسبت مختصرا تحریر ہے کہ جبکہ مہدی وسط متعدد ہو سکتے ہیں تو ممکن ہے کہ