مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 449
مکتوبات احمد ۴۴۹ جلد پنجم اس پیشین گوئی کو بالکل نہیں سمجھا اصل حقیقت اُس کی مختصر الکھی جاتی ہے۔ - واضح ہو کہ مراد روم سے نصاری روم ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں سلطنت نصاری کی نصاری روم میں ایک زبردست سلطنت تھی اور بنیا د سلطنت ملک روم میں نصاری ہی کے ہاتھ سے قائم ہوئے تھے اور یہ استعمال عرب میں ایسا ہی ہے جیسا کہ برطانیہ سے مراد سلطنت برطانیہ اور روس و یورپ وغیرہ سے مراد اہا لیے یورپ واہا لیے روس مراد ہوتے ہیں غرض کہ کتب معتبرہ تواریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ملک روم میں سلطنت نصاری ہی کی تھی ۔ دیکھو کتب تفاسیر اور شروح حدیث کو ۔ اس پیشین گوئی مندرجہ سوال نمبر ایک کی حقیقت یہ ہے کہ اول سورہ روم میں یہ آیت موجود ہے الم - غُلِبَتِ الرُّومُ - فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ! یعنی رومی جو نصاری ہیں قریب کی زمین میں مغلوب ہوگئی ہیں لیکن رومی اپنے مغلوب ہونے پیچھے عنقریب چند سال میں غالب ہو جاویں گے ۔ اس آیت میں دو قراء تیں آئی ہیں ۔ اوّل غُلِبَتْ بصیغہ مجہول اور سَيَغْلِبُونَ بصیغہ معروف اس قراءت کی رو سے جو متواتر ہے وہی قصہ مراد ہے جو روم نصاری اہلِ کتاب کی شکست خسر و با دشاہ فارس مشرک کے مقابلہ میں ہوئی تھی اور مسلمانوں کو اس شکست روم سے بوجہ اہلِ کتاب ہو نے اُن کے کے کسی قدر رنج ہوا تھا اور مشرکین عرب کو بوجہ مشرک ہونے فارس کے خوشی حاصل ہوئی تھی لہذا مسلمانوں کی تشفی کے لئے یہ آیت سورہ روم میں نازل ہوئی جس میں دو پیشین گوئی عظیم الشان بیان فرمائی گئی ہیں ۔ ایک تو روم کا غالب ہونا فارس پر میعاد ہشت سال میں جو مفہوم بضع سنین کا ہے جس کی نسبت حضرت صدیق اکبر کا روم کے غالب ہو جانے پر ابی بن خلف سے شرط لگانا روایات صحیحہ میں مذکور ہوا ہے۔ دوسری خوشخبری مسلمانوں کے لئے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی بضع سنین میں نصرت اور فتح عظیم کا حاصل ہونا جس سے مومنین کو ایک بڑی خوشی اور فرحت حاصل ہوگی جو آیت ذیل میں بڑے زور شور کے ساتھ بیان فرمائی گئی ہے ۔ ل الروم : انام