مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 37
مکتوبات احمد ۳۷ جلد پنجم شعروں کا ایک مجموعہ نور نامہ کے نام پر تھا ۔ آپ نہایت خوشخط تھے اور پورے قرآن کریم کو اپنے ہاتھ سے مکمل خوشخطی کے ساتھ لکھا تھا۔ لیکن افسوس کہ جس وقت مخالفت زور پکڑ گئی اور ہمارے گھر جلائے گئے تو اس وقت وہ نسخہ ( قرآن کریم ) بھی خاکستر ہو گیا۔ ۱۶ مارچ ۱۹۰۳ء کو جب حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب شہید کی گرفتاری کا حکم آیا اور شہید مرحوم کو کابل روانہ کیا تو اس وقت آپ بھی ان کے تعاقب میں ان کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب نے انہیں حکماً فرمایا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے وہاں جانے کو کہا ہے ۔ اس لئے آپ خوش ہو جائیں اور میرے پیچھے نہ آئیں۔ حکم کی اطاعت میں آپ واپس ہو گئے ۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے بعد افغانستان میں بالخصوص جہاں جہاں احمدی گھرانے تھے ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ حضرت غلام محمد صاحب افغان کے گھر سے ایک غیر احمدی رشتہ دار نے مولوی صاحب کا ایک لکھا ہوا خطبہ چرا کر صوبے کے حاکم کے سامنے بطور ثبوت کے پیش کیا۔ جس کے بعد حضرت مولوی صاحب پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا ۔ انہیں گرفتار کر کے زدوکوب کیا گیا لیکن جب معاملہ حاکم کے پاس گیا جو زیادہ متعصب نہ تھا اس نے آپ کی حالت پر رحم کر کے چھوڑ دیا۔ چند سال آپ اصحاب کہف کی طرح خفیہ زندگی بسر کرتے رہے۔ آخر آپ نے قادیان آنے کا ارادہ کر لیا اور قادیان میں اپنے آقا حضرت اقدس مسیح موعود کی صحبت سے فیضیاب ہوتے رہے۔ ۲۸ جولائی ۱۹۳۲ء کو آپ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے اور اپنے آقا حضرت مسیح موعود کے قرب و جوار بہشتی مقبرہ کے قطعہ نمبرے میں مدفون ہوئے ۔ آپ نے اپنے پسماندگان میں بیوی کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں یادگار چھوڑیں ۔