مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 421
مکتوبات احمد اے مرا روئے محبت سوئے تو ۴۲۱ جلد پنجم ہوئے انس آمد مرا از کوئے تو کس ازین مردم بما روئے نہ کرد این نصیبت بود اے فرخنده مرد ہر زمان با لعنتی یادم کنند خسته دل از جور و بیدادم کنند کس بچشم یار صدیقی نه شد تا بچشم غیر زندیقی نه شد کا فرم گفتند دجال و العین و بنگر این بازی کنان را چون جهند مومنے را کافری دادن قرار کار جان بازیست نزد هوشیار بہر قتلم ہر لئیے در کمین از حسد بر جان خود بازی کنند زانکہ تکفیری که از ناحق بود واپس آید بر سر اهلش فتد سفلہ کو غرق در کفر نهان هرزه نالد بہر کفر دیگران گر خبر زان کفر باطن داشته خویشتن را بدتری انگاشتے ۔ اے وہ کہ میری محبت کا رُخ تیری طرف ہے مجھے تیرے کوچہ سے انس کی خوشبو آتی ہے ۔ ۔ ان لوگوں میں سے کسی نے بھی ہماری طرف رخ نہ کیا اے نیک نصیب انسان یہ بات تیری قسمت میں ہی تھی۔ -2 یہ لوگ تو ہر وقت مجھے لعنت سے یاد کرتے ہیں اور ظلم و علم و جفا سے مجھے دکھ دیتے رہتے ہیں۔ یار کی نظر میں کوئی شخص صدیق قرار نہیں پاتا جب تک وہ غیروں کی نظر میں زندیق نہ ہو ۔ ۹۔ انہوں نے مجھے کا فرد جال اور لعنتی کہا اور ہر کمینہ میرے قتل کے لئے گھات میں بیٹھ گیا ۔ ۱۰۔ ان بازیگروں کو دیکھ کہ کس طرح اچھلتے ہیں یہ حسد کے مارے اپنی جان سے ہی کھیلتے ہیں ۔ ۱۱۔ کسی مومن کو کا فرٹھیرا نا سمجھ دار آدمی کے نزدیک بڑے خطرہ کی بات ہے ۔ ۔ ۱۲۔ کیونکہ جو تکفیر ناحق کی جاتی ہے وہ تکفیر کرنے والے کے سر پر ہی واپس پڑتی ہے ۔ ۱۳۔ وہ بے وقوف جو مخفی کفر میں غرق ہے وہ اوروں کے کفر پر ناحق بیہودہ غل مچاتا ہے ۔ ۱۴۔ اگر اسے اپنے باطنی کفر کی خبر ہوتی تو اپنے آپ کو ہی بہت بُرا سمجھتا ۔