مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 397
مکتوبات احمد ۳۹۷ جلد پنجم ہے جو آنحضرت نے فرمائی کہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے اور اگر آپ اس قدرت نمائی کا زبردست نشان دیکھنا چاہیں تو قادیان میں دیکھ سکتے ہیں ۔ جہاں کہ گزشتہ دوسال سے طاعون پڑتا ہے اور بہت سے وا واقعات موت ہو ہو جاتے ہیں۔ لیکن حضرت مرزا صاحب کے گھر کو خدا تعالیٰ ہمیشہ اپنے وعدہ کے مطابق جو بہت عرصہ پہلے شائع ہو چکا ہے کہ إِنِّي مُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ محفوظ رکھتا ہے۔ سوچنا چاہئے کہ جب دیوار بدیوار جو گھر ہیں اُن میں برابر وارداتیں ہوتی ہیں تو کس چیز نے اُن کیڑوں کو جو ساتھ کے گھر میں ہیں اس بات سے روک دیا ہے کہ اس گھر میں آجاویں اور اگر اس گھر میں آگئے ہیں تو کس چیز نے اُن کو روک دیا ہے کہ اپنے فعل سے وہ بالکل بے کار پڑے ہیں ۔ کیا یہ واقع اس امر کے واسطے کافی دلیل نہیں ہے کہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے اور دراصل عذوی اور هَامَہ کچھ شے نہیں ہے۔ ایسا ہی طاعونی علاقہ میں جانے یا وہاں سے نکلنے کے متعلق اصل حدیث اس طرح سے ہے۔ الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضِ فَلَا تَقْدِمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضِ وَانْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فَرَارًا مِّنْهُ ۔ یعنی طاعون ایک عذاب ہے جو یہود کے ایک گروہ پر نازل ہوا تھا جس وقت تمہیں خبر لگے کہ کسی زمین میں طاعون ہے تو اس میں نہ جاؤ اور اگر تم اس شہر میں پہلے سے موجود ہو اور طاعون واقع ہو جائے تو پھر ایسا نہ کرو کہ وہاں سے بھاگ کر کہیں اور جگہ چلے جاؤ۔ یہ حدیث آپ کے سوالات پر اور نیز طاعون کے عام حالات پر بہتر عام حالات پر بہت روشنی ڈالتی ہے۔ اول تو لا تقدموا سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت نے طاعون کے متعدی ہونے کے خواص کی طرف سے اشارہ کر کے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان ایسے جگہ پر جا کر خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالے ۔ دوم ۔ اگر ایک جگہ پھیل جائے تو وہاں سے دوسرے شہروں میں پھیلنے کے ذریعہ کو لا تخرجوا فراراً کا حکم سنا کر روک دیا۔ کیونکہ دیکھا جاتا ہے دیکھا جاتا ا ہے کہ جب ایک شخص گندی ہوا سے یک دفعہ بھاگ کر لا تذكرة صفحہ ۳۴۸ ایڈیشن ۲۰۰۴ء بخاری ۔ كتاب احاديث الانبياء باب حديث الفار