مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 394

مکتوبات احمد ا مالد جلد پنجم مکتوب بنام ڈاکٹر رستم علی خان صاحب ذیل میں ہم برادر مکرم مفتی محمد صادق صاحب کا ایک خط درج کرتے ۔ ہیں جو انہوں نے اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد سے ایک ڈاکٹر صاحب کے جواب میں لکھا ہے ۔ ہم جواب کے ساتھ اصل خط بھی شائع کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔ ( ایڈیٹر ) حضور عالی ! السلام علیکم ۔ مہربانی فرما کر ذیل کے سوالوں کا مفصل جواب دے کر اس عاجز کو ممنون و مشکور کریں گے ۔ آپ کی بہت بڑی عنایت و مہربانی ہوگی ۔ ا۔ فی زمانہ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ جو شخص مریض طاعون کے پاس بیٹھتا ہے یا اس اسہتا ہے تو اس شخص کو بسبب اجرام طاعون کے اس کے جسم میں داخل ہونے سے مرض طاعون ہو جاتا ہے مگر رسول اللہ نے اس بات کو نفی اور باطل کیا یعنے سرائیت کرنا مرض کا ایک سے دوسرے کو نہیں ہوتا ۔ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ ۲۔ جب کسی جگہ طاعون پھیلتا ہے تو ڈاکٹر لوگ شہر والوں کی خوشی سے یا حکما لوگوں کو صاف ہوادار کھلے میدان میں بلحاظ حفظ صحت کے باہر نکل جانے کا حکم دیتے ہیں ۔ مگر رسول اللہ نے حکم دیا ہے۔ ا الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِ مِنَ الرَّحْفِ وَالصَّابِرُ فِيهِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ ۔ حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں جب لشکر اسلام شام پر چڑھائی کو جا رہا تھا تب اُس لشکر میں طاعون ظاہر ہوا اس وقت حضرت عمرؓ نے کیا انتظام کیا تھا۔ اور ان کا کیا حکم ہے۔ ۴۔ کیا کسی آیت یا حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ دوران وباء طاعون میں لوگ کھلے میدانوں میں نکل جاویں مگر اس طاعون زدہ شہر کے حد ہی میں رہیں کی خادم رستم علی خان مقام آگرہ مالوہ ۔ وسط ہند ۔ رسالہ نمبر ۳۹ مورخہ ۹ جولائی ۱۹۰۴ء ا مسلم ۔ كتاب السلام باب لا عَدْوَى وَلَا طِيَرَة ۔۔۔۔۔ الخ ☆ مسند احمد بن حنبل مسند المكثرين من الصحابه مسند جابر بن عبد الله الحکم نمبر ۲۳ ۲۴ جلد ۸ مورخہ ۲۴،۱۷ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۷