مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 391

مکتوبات احمد ۳۹۱ جلد پنجم وو مکتوب بنام مولوی سید حسین صاحب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکرمی اخویم مولوی سید حسین صاحب نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا تعجب ہے کہ جس حالت میں اس عاجز کے الہام کی نسبت شکوک و شبہات ہیں تو میرا الہام کیونکر آپ کے لئے تسلی بخش ہو گا یہ تمام دعوی بھی الہام ہی پر بنی ہیں پھر جب آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے حد سے بڑھ کر ایک بڑے پایہ پر قدم رکھا اور کتاب اللہ و احادیث کے صریح معنوں کو چھوڑ دیا تو پھر اس حالت میں آپ کسی دوسرے الہام کو کب عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ عزیز من! نہ میں نے قرآن کریم کو چھوڑا اور نہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکن جو لوگ قرآن اور حدیث میں غور نہ کریں ان کا علاج میں کیا کروں میں نے اپنی کتاب حمامۃ البشری اور رسالہ ” اتمام الحجہ اور نور الحق وغیرہ میں ان مضامین کو بسط سے لکھا ہے۔ پھر اگر کوئی نہ سمجھے تو اس کا علاج انسان کے ہاتھ میں نہیں ۔ سچ کے ڈھونڈ نے والے فروغ پر زور نہیں مارتے بلکہ اصول کو دیکھتے ہیں ۔ پھر جبکہ قرآن اور حدیث اور آثار صحابہ اور آئمہ دین کے صریح اقرار سے ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے تو آپ کسی عالم میں مسیح کو آسمان سے اُتارنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ میرے پاس آویں یا میری کتابوں کو غور سے دیکھیں تو میں ہرگز باور نہیں کرتا کہ آپ اس بیہودہ اعتقاد پر ایک ساعت کے لئے بھی قائم رہ سکیں مگر انصاف شرط ہے اور امید رکھتا ہوں کہ آپ منصف مزاج ہوں گے ۔ صرف قلت معلومات آپ کو مانع ہو رہی ہے ۔ کیا عمدہ ہو کہ آپ ایک یا دو ہفتے کے لئے میرے پاس آجاویں تا آپ کی پوری تسلی ہو اور آپ کا ایمان اس صدمہ سے بچ جاوے جو غلط فہمی کا لازمی نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ آپ نے قلم اُٹھا کر کئی باتیں ایسے طور سے لکھ دیں جو تقوی سے بعید ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ! ا بنی اسرائیل: ۳۷