مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 382

مکتوبات احمد ۳۸۲ جلد پنجم میں مدد دیتا ہے اور کسی نے انگریزی خط لکھنے کا ذمہ لیا ہے اور کوئی عربوں کے خطوط کا عربی میں جواب دیتا ہے ۔ اور چند روز زندگی کو بیچ سمجھ کر اللہ جل شانہ کی راہ میں فنا ہو رہے ہیں ۔ اس جگہ رہ کر غریبوں کی طرح نان و نمک پر گزارہ کر رہے ہیں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ بعض انہیں میں بہت روتے ہیں بات بات میں ان کے آنسو جاری دیکھتا ہوں ۔ فاضل ہیں ، عالم ہیں ، ادیب ہیں ، خاکسار ہیں لیکن افسوس کہ آپ کو بے بنیا د عمر کا فکر نہیں کیا اچھا ہوتا کہ محبت کے ساتھ دینی فکر میں مشغول ہوتے اور مددگاروں میں شامل ہو جاتے اور مجھے راحت پہنچاتے اور اس کا اجر راحت دیکھتے ۔ مثلاً رسالہ نور الحق لاہور میں چھپ رہا ہے اور یہ کسی خود نمائی کی غرض سے نہیں بلکہ محض اُن پلید عیسائیوں کا منہ بند کرنے کے لئے ایک ہتھیار ہے جو قرآن شریف پر ٹھٹھا اور اس پاک کلام کی فصاحت پر حملہ کر رہے ہیں مگر میں قادیان میں ہوں اور لاہور میں چھپتا ہے لاہور میں کوئی آدمی ایسا نہیں کہ پروف کو بھی دیکھ سکے اور اللہ محنت کرے اور اس میں غور کرے اور کوئی غلطی ہو تو درست کر سکے آخر پروف میرے پاس آتا ہے اور بیمار طبع ہوں کوئی محنت کا کام مجھ سے نہیں ہو سکتا ۔ ادنی توجہ سے دردسر شروع ہو جاتا ہے۔ پھر غلطی رہنے کا احتمال ہوتا بعض ادیب دوست ہیں وہ بھی خدمات سے خالی نہیں اور ہمیشہ پاس نہیں رہ سکتے ۔ ایک عرب صاحب محض خط لکھنے کے لئے مقرر ہیں وہ دوسرا کام نہیں کر سکتے ان باتوں کے خیال سے دل بہت دکھتا ہے مجھے اس کی کیا غرض کہ میں نفسانی دعویٰ کروں اور اگر کوئی اس عزت کو لینے والا ہو۔ یہ سب عزت اس کو دے دوں مگر دینی غم خوار کم ہیں ۔ اب نور الحق کے لئے پانچ ہزار روپے کا اشتہار شائع کر چکا ہوں اور چودہ سواشتہا را ردو میں شائع کر چکا ہوں جن میں سے ایک آپ کی خدمت میں بھیجتا ہوں اور اب چودہ سو انگریزی میں چھپ رہا ہے۔ یہ تو میں نے اسلامی غیرت سے اپنی اس علیل طبیعت میں کیا اور نہایت سرسری نگاہ سے صرف چند روز میں اس کو تمام کیا اور میرے دوست جانتے ہیں کہ علاوہ اس کے کہ سو سو شعر گھنٹہ میں تیار ہوئے پھر اگر ایسے اسباب کے ساتھ احتمال غلطی نہ ہو تو غلطی کے لئے اور کون سے اسباب ہوا کرتے ہیں۔ بعض وقت لکھتا ہوں تو آنکھوں کے آگے اندھیرا اُتر جاتا ہے اور یقین ہو جاتا ہے کہ غشی آگئی مگر ایسا قائم مقام نہیں پاتا جو بکلی مہیا کاموں کا متکفل ہو جائے ۔ اگر آپ محبت کی راہ سے یہ خدمت