مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 377
مکتوبات احمد ۳۷۷ جلد پنجم اور جو سرقہ کا خیال آپ نے کیا ہے آپ ناراض نہ ہوں یہ بھی صحیح نہیں ۔ اس عاجز کی ایک عادت ہے شائد اس کو آپ نے سرقہ پر حمل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مضمون سوچتے وقت اگر سلسلہ تحریر میں جو روانگی کے ساتھ چلا جاتا ہے کوئی فقرہ یا بعض وقت کوئی مصرعہ کسی گزشتہ قائل کا دل میں گزر جائے اور مناسب موقعہ معلوم ہو تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھا جاتا ہے اور اُس کے لکھنے میں اگر محل پر چسپاں ہو کچھ بھی حرج نہیں دیکھا جاتا۔ کیونکہ بے تکلف ہماری راہ میں آ گیا اور عجب تر یہ کہ اکثر اوقات مجھے بالکل احساس نہیں ہوتا۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ یہ مصرعہ یا فقرہ فلاں فقرہ یا فلاں مصرعہ سے بالکل مشابہ ہو گیا ہے۔ بعض اوقات عجیب طور کے تو ارد سے تعجب کرتا ہوں جانتا ہوں کہ جلد باز اپنی جلد بازی اور سوء ظن سے اس پر اعتراض کرے گا مگر جانتا ہوں کہ میرا کیا گناہ ہو اگر کرے تو کرتا رہے۔ کلام فصیح اپنے کمال پر پہنچ کر ایک نور بن جاتا ہے اور نور نور سے مشابہ ہوتا ہے۔ سرقہ کے کے لئے جوانی اور جوانی کا زور بازو اور وسیع فرصتیں چاہئیں وہ مجھے کہاں ۔ اگر کوئی سرقہ کا کا خیال کرے تو کیا کرے جن لوازم کے ساتھ یہ تحریریں ظہور میں آئی ہیں اگر کوئی ان لوازم کے ساتھ تحریر کر کے دکھلاوے تو ایک دفعہ نہیں بلکہ ہزار دفعہ اس کو سرقہ کی اجازت دے سکتا ہوں ۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مضمون خاص کی بحث میں سرقہ کا دروازہ بہت تنگ ہوتا ہے جو شخص اس کام ( میں ) پڑے وہ سمجھے گا کہ یہ الزام ایسے علمی مباحث میں کس قدر بیجا ہے۔ پھر یہ بات بھی آپ یا د رکھیں کہ صرفی نحوی غلطیاں نکالنے میں عجلت نہیں کرنی چاہیئے کچھ تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ ایک مخالف مولوی نے اسی طرح میری تالیف میں غلطیاں نکالیں ۔ دوسرے ہل علم اور مخلص نے وہی غلطیاں قرآن سے نکال کر ان کی صحت کر دی ہے ۔ ایک مخالف نے ایک شعر کے وزن میں بحث کی اسی وقت ایک ادیب عربی نے قدما میں سے ایک مسلم اور مشہور شاعر کا شعر پیش کیا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری جماعت کے ساتھ کئی ایک ادیب شامی مدنی اور اسی ملک کے ہندوستانی شامل ہیں نوبت بنوبت علماء اس جگہ رہتے ہیں ۔ عزیز من ! صرف و نحو کا میدان بڑا وسیع ہے صلوں میں دیکھو کہ کس قدر اختلاف ہے بعض اوقات ایک ایک لفظ کے تین تین چار چار صلے آجاتے ہیں جیسا کہ بَارَكَكَ - بَارَكَ اللَّهُ لَكَ بَارَكَ