مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 373
مکتوبات احمد ۳۷۳ جلد پنجم نشان مجھ کو دیئے گئے ہیں جو منجملہ ان کے تین ہزار کے قریب ابتک ظاہر ہو چکے ہیں اور مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں پر ظاہر کروں کہ میں اس کی طرف سے مسیح ابن مریم علیہ السلام کے نمونہ پر رحمت کے نمونے دکھلانے کے لئے آیا ہوں جو شخص دل اور جان سے میرا ساتھ کرے گا اس کا ایمان قوی کیا جائے گا اور گناہوں کی زنجیروں سے مخلصی پائے گا اور دنیا کی مشکلات اس پر آسان کی جائیں گی اور خدا تعالیٰ کا خاص فضل اس پر ہوگا۔ میں ارادہ رکھتا تھا کہ ہندوستان کے امیروں اور نوابوں میں سے کسی کو اپنے اس حال سے اطلاع دوں تا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اس طبقہ کے بعض آدمی بھی میری جماعت میں داخل ہوں لیکن میں دیکھتا تھا کہ اس ملک میں اکثر امراء اور نوابوں کی حالت اچھی نہیں ۔ اور کاروبار آخرت ان کی نظر میں حقیر ہو رہا ہے۔ سو میں جانتا تھا کہ یہ لوگ حد سے گزر گئے ہیں لیکن آپ کے حالات جو مولوی سید محمد احسن صاحب نے مجھ کو سنائے ہیں ان سے اہلیت اور متانت اور ہمت اور دینداری کی بُو آتی ہے۔ اس لئے مجھ کو یہ خط لکھنا پڑا۔ میں آپ کو خدا تعالیٰ کے الہام کے ذریعہ سے یاد دلاتا ہوں کہ یہ زہر ناک ہوا جو مسلمانوں کی ریاست و امارت پر چل رہی ہے اس مہلک ہوا سے وہی امیر بچے گا جو د بنداری اور تقویٰ شعاری اور خدا ترسی کا پیرا یہ پہن لے گا اور فسق و فجور سے بچے گا اور دوسرے عنقریب سب تباہ ہو جاویں گے۔ اور دینداری اور خدا ترسی کے سکھلانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے جو شخص میری طرف آئے گا اس کو سچی دینداری اور تقوی دی جاوے گی اور اس کے حق میں خدا تعالیٰ میری دعائیں قبول کرے گا اور اس کے گناہ بخشے جاویں گے اور اس کی دنیا اس پر بحال رکھی جاوے گی ۔ سو یہ میری طرف سے تبلیغ ہے اور محض پیغام ہے جو میں نے آپ کو پہنچا دیا ہے اور بطور نمونہ ایک کتاب رسالہ آسمانی فیصلہ بھی اس کے ہمراہ بھیجتا ہوں اور اثر نصیحت خدا تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں ۔ ۲۰ مارچ ۱۸۹۲ء والسلام خاکسار احقر عباداللہ مرزاغلام احمد قادیانی از مقام جالندھر غلہ منڈی مکان زین العابدین