مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 362

مکتوبات احمد ۳۶۲ مکتوب بنام جماعت راولپنڈی حضرت اقدس مرشد نا و مهد بین مسیح موعود و مہدی معہود السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ احباب راولپنڈی میں ایک اختلاف ہوا ہے کہ بعد نماز جمعہ مسجد میں اسی جگہ بیٹھ کر برادرانِ احمد یہ کا باہم ملاقات کرنا، مسائل دینیہ پر بحث کرنا، اپنی جماعت کے متعلق کتب اخبارات وغیرہ سننا یا سنا نا جائز ہے یا نہیں؟ ایک فریق کہتا ہے کہ ایسا کرنا فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ کے حکم کی مخالفت ہے ۔ دوسرا فریق کہتا ہے کہ دینی اغراض کے لئے رہنا جائز ہے۔ والسلام عاجز محمد صادق ۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ جلد ایسی بحث غلط فہمی سے ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اغراض صحیحہ دینیہ کے لئے بعد نماز مسجد میں بیٹھنا جائز ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ثابت ہے اور یہ حکم بطور رخصت کے ہے نہ بطور فرض کے۔ چونکہ عیسائیوں کی تعطیل کے دنوں میں قطعاً بیکاری فرض تھی وہ اپنی دکانیں بند رکھتے تھے ۔ اس کے رد کے لئے یہ حکم ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ تم پر حرام نہیں ہے کہ بعد نماز جمعہ سارا دن بے کار رہو ۔ البتہ بانگ نماز سنتے ہی مسجد میں حاضر ہو جاؤ ۔ اور پھر تمہیں رخصت ہے کہ اپنی تجارت وغیرہ میں مشغول ہو جاؤ ۔ یہ ایسا ہی حکم ہے جیسا کہ یہ حکم ہے كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا پر كُلُوا وَاشْرَبُوا سے یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے روزہ بھی نہ رکھو اور ہمیشہ کھاتے رہو ۔ غرض یہ حکم اہل کتاب کے رد میں ہے اور اس سے اصل مطلب رخصت ہے نہ فرضیت جیسا کہ سنت سے ظاہر ہے کیا ☆ والسلام مرز اغلام احمد ل الاعراف: ۳۲ الحکم نمبر ۳۴ ، ۳۵ جلد ۸ مورخه ۱۰ ، ۱۷ راکتو بر ۱۹۰۴ صفحه ۶