مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 342
مکتوبات احمد ۳۴۲ جلد پنجم حضرت مولانا حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیروی المسير خلیفة المسیح الاول حضرت مولوی حاجی حافظ حکیم نور الدین صاحب (خلیفہ المسیح الاول ) رضی اللہ عنہ کے والد ماجد کا نام حافظ غلام رسول صاحب تھا ۔ آپ کا نسب نامہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ اس طرح آپ کی قریشی فاروقی نسبت ہے ۔ آپ کی والدہ صاحبہ کا نام نور بخت تھا۔ آپ کی ولادت ۔ ۱۸۴۱ ء کی ہے۔ آپ نے اپنی والدہ ماجدہ کی گود میں قرآن کریم پڑھا اور انہی سے پنجابی زبان میں اپنی اور فقہ کی کتابیں پڑھیں ۔ کچھ حصہ قرآن شریف کا والد صا ۔ صاحب سے بھی پڑھا۔ حکمت اور دیگر علوم بھیرہ ، لاہور، رام پور ،لکھنو ، بھوپال اور مکہ معظمہ کے علماء سے حاصل کیے ۔ آپ کے استادوں میں مولوی رحمت اللہ کیرانوی اور شاہ عبد الغنی مجد دی شامل تھے ۔ حضرت اقدس سے تعلق و تعارف آپ کو سب سے پہلے ضلع گورداسپور کے ایک شخص شیخ رکن الدین صاحب کے ذریعہ ہوا جو اُن دنوں جموں میں ملازم تھے ۔ شیخ صاحب نے بتایا کہ ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان میں ایک شخص مرزا غلام احمد صاحب نے اسلام کی حمایت میں سالے لکھے ہیں ۔ غالباً ان دنوں براہین احمد یہ شائع ہو رہی تھی ۔ آ آپ پ بھی بھی مہا راجہ جموں کے ہاں ان دنوں ملازم تھے ۔ حضرت مولوی صاحب نے یہ سن کر حضرت کی خدمت میں خط لکھ کر کتا بیں منگوائیں اور ان کے آنے پر جموں میں حضرت اقدس کا چرچا ہو گیا۔ حضرت مولوی صاحب مزید فرماتے ہیں ۔ آپ کا ایک مباحثہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایک بڑے انگریزی تعلیم یافتہ اور مسلمان عہدیدار سے ہوا تھا اور اس کے خیالات اس قسم کے تھے کہ آنحضرت نے کمال دانائی اور عاقبت اندیشی سے ختم نبوت کا دعویٰ کیا کیونکہ آپ کو زمانہ کی حالت سے یہ یقین تھا کہ لوگوں کی عقلیں اب بہت بڑھ گئی ہیں اور آئندہ زمانہ اب نہیں آئے گا کہ لوگ کسی کو مرسل یا مهبط وحی مان سکیں ۔ ایک طرف آپ کو ان خیالات سے صدمہ ہوا دوسری طرف وزیر اعظم جموں نے حضرت اقدس کا پہلا اشتہار دیا۔ اس میں اس ” سوفسطائی کا ظاہر اور بین جواب تھا ۔ آپ یہ اشتہار لے کر اس عہد یدار کے پاس گئے اور اس سے 66