مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 322

مکتوبات احمد ۳۲۲ جلد مکتوب نمبر ۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبتی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ رتبه السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اخویم مولوی عبداله عبدالکریم صاحب نے آپ کا خط مجھے سنا یا با ے سنا یا باعث مسرت اور خ اور خوشی ہوا ابتدا سے میری فراست یہ کہتی ہے کہ آپ میں ایک خاص سعادت اور رشد کا ایسا مادہ ہے کہ وہ باوجود کشاکش دنیوی مشاغل کے پھر ہماری طرف کھینچتا رہتا ہے ۔ میری دعا ہے کہ خدا وند قد میر اس مبارک مادہ کو بہت نشو و نما بخشے اور آپ کی عمر اور آسائش میں بہت سی برکت دیگر آپ کے ہاتھ سے بڑے بڑے روحانی کام کراوے ۔ مجھے ایسے مردان میدان کی بہت ضرورت ہے جو ایسے پر آشوب زمانہ میں طریق مستقیم پر دین کی نصرت کریں اور وہ جلال جو اسلام مدت سے کھو بیٹھا ہے اس کے باز آمد کے لئے اپنی تمام کوشش اور تمام اخلاص سے زور لگا دیں ۔ یہ مختصر زندگی بہر حال ختم ہو جاوے گی وہ لوگ بھی نہ رہیں گی جو اسلام کے اعلیٰ مقاصد صرف اسی قدر سمجھتے ہیں جو یہ قوم جو مسلمان کہلاتی ہیں ۔ اہل یورپ کے دوش بدوش ہو جائیں اور ان کے اقبال اور ات اور چال چلن سے پورا حصہ لے لیں ۔ اور نہ وہ لوگ رہیں گے جو اسلامی روحانیت کے قائم کرنے کے لئے دن رات خداوند جلیل کے سامنے روتے ہیں مگر میں جانتا ہوں کہ صفات موخر الذکر لوگ بہت مبارک ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر پہلے سے اسلام میں ایسی ہی ذریت ہوتی کہ وہ یورپ سے مشابہت پیدا کرنے کے عاشق ہوتے تو کبھی سے اسلام کا خاتمہ ہو