مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 320
مکتوبات احمد ۳۲۰ جلد مکتوب نمبر ۲ محتی مکرمی اخویم سید صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا میرے امر میں جس قدر آں محب کو تر ڈر اور کشاکش در پیش ہے وہ بھی نیک فطرت اور سعادت منشی کی علامت ہے کیونکہ مومن جوانمرد و قبل اس کے جو کسی امر میں کوئی فیصلہ کر لے اپنے ہی مختلف خیالات سے ایک لڑائی کرنی پڑتی ہے ۔ مگر چونکہ اس کا سب کام نیک نیتی سے ہوتا ہے اس لئے اس لڑائی میں خدا تعالیٰ خود اس کو مدد دیتا ہے تب وہ خدا تعالیٰ سے قوت پا کر اور ایک آسمانی روشنی حاصل کر کے ایک صحیح صحیح فیصلہ کر لیتا ہے لیکن یہ سب کچھ ب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے انسان جس طرح رحم مادر میں تاریکی میں پرورش پاتا رہتا ہے اور جب تک اس کی پوری بناوٹ رحم میں نہ ہو جائے تب تک اس تاریکی سے نہیں نکلتا ۔ یہی سنت اللہ روحانی پرورش میں بھی ہے۔ انسان روحانی طور پر خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے قدیم قانون کے موافق کچھ کچھ بنتا جاتا ہے مگر تاریکی بھی ساتھ ساتھ ہوتی ہے اور کبھی کبھی وہ بے چین کر دیتی ہے اور ایک حرکت پیدا ہوتی ہے جس طرح رحم میں چار مہینے کے بعد بچہ میں حرکت پیدا ہوتی ہے ۔ آخرا اپنی خلقت کو پورا کر کے ان تین ظلماتی حجابوں میں سے باہر نکل آتا ہے۔ظلمات کے دن بھی ضروری ہیں جب تک کہ بناوٹ پوری ہو جاوے اور یہ امر یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اس عاجز کا یہ دعوئی اور یہ کا روبار اس غرض سے نہیں ہے کہ مجھے ایک بت کی طرح پو جا جائے یا میری ذاتی اغراض کے لئے کوئی مجمع اور کوئی گروہ میرا تابع ہو جائے بلکہ آسمانوں کے ذوالجبروت خدا نے محض اپنے جلال اور توحید ظاہر کرنے کے لئے اور لوگوں کی اعتقادی اور عملی حالتوں کو درست کرنے کے لئے یہ سلسلہ قائم کیا ہے ۔ ہاں قدرتی طور پر مجھ کو اس کام کے لئے واسطہ بنایا گیا ہے تا جہاں تک میرے قومی سے ہو سکتا ہے میں اس خدمت کو بجالاؤں ۔ مجھے اس کام میں کسی فتح یا شکست سے کام نہیں ہے ۔ میں ایک بندہ عبودیت شعار ہوں ۔ مجھے یہ جوش بخشا گیا