مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 303
مکتوبات احمد ۳۰۳ رض ( حضرت چوہدری مولا بخش صاحب بھٹی کا مکتوب بابت استفسار مسئلہ جنازہ ) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي بحضور جناب مسیح معهود و مهدی موعود امام زمان سلمہ اللہ الرحمن جلد پنجم جناب عالی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ شہر میں ایک جنازہ ایسی ہو گئی تھی جو کہ حضور کے مصدق نہ تھے پر تھے وہ رئیس یا لحاظ والے ۔ اکثر جماعت کے دوست ان کی جنازہ پڑھنے گئے ۔ کمترین نہ گیا۔ دریافت پر کمترین نے جواب دیا کہ جو لوگ حضور کے مخالف یا مکذب ہیں ۔ کمترین ان کا جنازہ ہرگز ہرگز نہ پڑھے گا جس پر حضور کا خط درباره اعادت نماز پڑھ کر سب جماعت کے دوستوں کو سنایا گیا۔ اس خط میں حضور نے نماز جنازہ کی اعادت کی بابت ہی حکم صادر فرمایا ہوا تھا کو میں نے دوستوں کو ۔۔۔۔۔ پیش کیا کہ اگر کوئی مخالف حضور کا جو کہ حضور کو سخت دشمن جانتا ہے اور ۔۔ فخش بکتا ہے ۔ اگر وہ مر جائے ، خدا کرے ضرور مر جاوے تو کیا اس کی نماز جنازہ جماعت کے دوست پڑھیں گے؟ اس پر سب نے بالا تفاق کہا کہ حضرت ہی کے خط سے اس کی نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت پائی جاتی ہے لیکن کمترین کے خیال میں اجازت نہیں پائی جاتی ہے ۔ پھر کمترین نے سوال کیا کہ حضرت رسول کریم فداہ ابی وامی کافر کا جنازہ پڑھا کرتے تھے ؟ جواب ملا کہ نہیں ۔ اس پر کمترین نے عرض کی کہ جو مخالف ہماری جماعت کو کافر جانتے ہیں اور ہمارا مال اسباب لوٹ لینا باعث ثواب خیال کرتے ہیں چونکہ ہم کا فرنہیں ہیں اس لئے بموجب حدیث رسول کریم کفر الٹ کر ان پر ہی پڑتا ہے اور وہ خود کا فر ہو جاتے ہیں ۔ اگر وہ مر جاویں تو ہم ان کا جنازہ کیوں پڑھیں اس پر سب دوستوں نے یہ صلاح دی کہ اس کی نسبت حضور سے فوری عرض کر کے دریافت کیا جاوے۔ اس بارے میں حضور جو حکم صادر فرماویں تو اس کے مطابق عمل ہوگا۔ اس اختلاف کو مٹانے کے لئے حضور حکم صادر فرماویں۔ اس خادم کی بیوی اور بچوں اور ۔۔۔ کا سلام قبول ہو ۔ ۲۳ فروری ۱۹۰۴ء سیالکوٹ غلام ۔۔۔۔ ما جز مولا بخش ۔۔۔ ضلع سیالکوٹ