مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 282
مکتوبات احمد ۲۸۲ جلد حضرت نواب محمد علی خاں صاحب حضرت نواب محمد علی خاں رضی اللہ عنہ کے مورث اعلیٰ شیخ صدر الدین جلال آباد کے باشندہ تھے۔ شیروانی قوم کے پٹھان تھے جو ۱۴۶۹ء میں سلطنت بہلول لودھی کے زمانہ میں اپنے وطن سے ہندوستان میں آئے اور ایک قصبہ آباد کیا جس کا نام مالیر کوٹلہ ہے۔ آپ کے والد ماجد کا نام نواب غلام محمد خاں صاحب تھا ۔ ابتدائی تعلیم چیفس کا لج ( انبالہ ولا ہور ) سے حاصل کی ۔ آپ ۱۸۸۷ء سے ۱۸۹۴ء تک محمدن ایجوکیشنل کانفرنس سے وابستہ رہے۔ اور آپ نے علی گڑھ کے مشہور سٹریجی ہال کی تعمیر میں پانچ صدر و پیہ چندہ دیا۔ حضرت اقدس مسیح موعود سے خط و کتابت کا آغاز آپ کے استاد مولوی عبد اللہ فخری کاندھلوی ( بیعت ۴ رمئی ۱۸۸۹ء کی تحریک سے ہوا ۔ حص سے ہوا ۔ حضرت نواب صاحب اپنے ایک خط میں حضرت اقدس مسیح موعود کو لکھتے ہیں ۔ اور علماء اور ابتداء میں کا ء میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے موید نہیں ہیں ۔ بلکہ مخالفان اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں ۔ مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار ۔ پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے دعوے کئے ہیں ۔ یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے ۔ تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب قریباً اگست میں آپ سے لود یا نہ ملنے گیا تو اس وقت میری تسکین خوب ہو گئی اور آپ کو ایک با خدا بزرگ پایا اور بقیہ شکوک کو بعد کی خط و کتابت نے -