مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 278
مکتوبات احمد ۲۷۸ جلد: حضرت مولوی محمد علی صاحب ایم ۔اے مرحوم کپورتھلہ کے ایک گاؤں مرار میں حافظ فتح الدین صاحب کے ہاں دسمبر ۱۸۷۴ء میں پیدا ہوئے اور ۱۳ اکتوبر ۱۹۵۱ء کو وفات پائی ۔ جنوری ۱۸۹۲ء میں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مباحثہ عبد الحکیم کلانوری کے سلسلہ میں لاہور میں تشریف لائے تھے ۔ پہلی مرتبہ حضور کی زیارت کا شرف حاصل کیا ۔ ۱۸۹۴ء میں اسلامیہ کالج کے بہ کالج کے ریاضی کے پروفیسر مقرر ہوئے اور یہیں خواجہ کمال الدین صاحب سے ( جو بیعت میں داخل ہو چکے تھے اور کالج کے سٹاف میں شامل تھے ) راہ و رسم پیدا ہو گئی ۔ دو اڑھائی سال میں جب باہمی تعلقات محبت بہت ترقی کر گئے تو خواجہ صاحب نے انہیں قادیان جانے کی تحریک کی ۔ جس پر آپ کے ہمراہ مارچ ۱۸۹۷ء میں قادیان پہنچے اور حضور کی شبانہ روز اہم خدمات دینیہ اور اشاعت اسلام کا جذبہ دیکھ کر شامل احمد بیت ہو گئے ۔ (پیغام صلح ۲۷ جنوری ۱۹۳۳ ء صفحہ ۲) آپ ایل ایل بی کا امتحان پاس کر کے گورداسپور میں وکالت کرنا چاہتے تھے اور اس کے لئے انتظامات مکمل بھی کر لئے تھے کہ جون ۱۸۹۹ء میں یورپ کے لئے ایک انگریزی رسالہ کی تجویز ہوئی جس کے لئے حضور کی نظر انتخاب آپ پر پڑی اور آپ ہجرت اختیار کر کے قادیان آگئے جہاں چودہ سال تک ریویو آف ریلیجنز کی ادارت اور صدرانجمن احمد یہ کی سیکرٹری شپ و غیره مختلف خدمات سرانجام دینے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ مارچ ۱۹۱۴ء میں نظام خلافت سے الگ ہو کر لاہور چلے گئے اور اور احمدیہ انجمن اشاعت ت اسلام لاہور بنا لی ۔ ایک مرتبہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ خواب میں دکھائے گئے حضور نے ان سے رویا میں کہا۔ ”آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ“ تاریخ احمدیت جلد ا صفحه ۶۵۴ ( البدر یکم اگست ۱۹۰۴ء صفحه ۴ )