مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 244
مکتوبات احمد ۲۴۴ جلد پنجم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ میرے سید و مولی میرے مطاع و آقا ! گنہ گار ، سیہ کار، خطا کار ( اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ عبارت آرائی کے لحاظ سے نہیں لکھا گیا بل الانسان على نفسه بصيرة ( آپ کا غلام ، اکمل نام جس کے پاس سوائے حضور کی محبت کے اور کچھ بھی نہیں ، اپنی جسمانی و روحانی کمزوریوں کے لئے خاص دعاؤں کا محتاج ہے ۔ تین جلد کتا بیں نذر کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ۔ ایک ظہور المسیح ۔ اس میں اکثر مخالف کتابوں کو پیش نظر رکھ کر وفات مسیح کو ثابت کیا گیا ہے اور آیت وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ ے کی تفسیر ہے جس میں یہ بات بھی ہے کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ کے اعداد ۱۳۰۵ ظاہر کرتے ہیں کہ تمام خلافتیں اس سن میں بروزی طور سے جمع ہوں گی اور ہوں گی اور دل کے اعداد ۳۰ ۔ اگر خلافت خلفاء ار واربعہ کی مدت بتاتے ہیں تو ھم 66 کے خلافت آخرہ کے جو مطابق حدیث ہیں ۔ دوسری کتاب ”خُلق محمدی" ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات کا سلیس نظم میں ذکر ہے ۔ تیسری ” الاستخلاف رد شیعہ ہے صرف قرآن مجید سے ، مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے طرز پر۔ ☆ افسوس ان کی چھپوائی اچھی نہیں ۔ مگر اس میں میرا قصور نہیں کی گر قبول افتدز ہے عز و شرف ۱۶ مارچ ۱۹۰۸ء والسلام مع الاكرام دعاؤں کا طالب خادم حضور ناچیز محمد ظہور الدین اکمل عضی اللہ عنہ دفتر بدر قادیان ل النور : ۵۶ ماہنامہ انصار اللہ ربوہ فروری ۱۹۶۲ء صفحہ ۲۲ ،۲۳