مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 132
مکتوبات احمد ۱۳۲ جلد مکتوب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد اس کے واضح ہوم ، واضح ہو کہ آپ کا خط مجھ کو ملا۔ آپ اپنے گھر میں سمجھا دیں کہ اس طرح شک و شبہ میں پڑنا بہت منع ہے۔ شیطان کا کام ہے جو ایسے وسوسے ڈالتا ہے۔ ہرگز وسوسہ میں نہیں پڑنا چاہئے ۔ گناہ ہے اور یاد رہے کہ شک کے ساتھ غسل واجب نہیں ہوتا۔ اور نہ صرف شک سے کوئی چیز پلید ہوسکتی ہے۔ ایسی حالت میں بے شک نماز پڑھنا چاہئے اور میں انشاء اللہ دعا بھی کروں گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب وہمیوں کی طرح ہر وقت کپڑا صاف نہیں کرتے تھے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اگر کپڑہ پر منی گرتی تھی تو ہم اس منی خشک شدہ کو صرف جھاڑ دیتے تھے۔ کپڑا نہیں دھوتے تھے اور ایسے کنواں سے پانی پیتے تھے جس میں حیض کے لئے پڑتے تھے ۔ ظاہری پاکیزگی سے معمولی حالت پر کفایت کرتے تھے ۔ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے ۔ اصول یہ تھا کہ جب تک یقین نہ ہو ہر یک چیز پاک ہے ۔ محض شک سے کوئی چیز پلید نہیں ہوتی ۔ اگر کوئی شیر خوار بچہ کسی کپڑے پر پیشاب کر دے تو اس کپڑے کو دھوتے نہیں تھے۔ محض پانی کا ایک چھینٹا اس پر ڈال دیتے تھے۔ اور بار بار آنحضرت فرمایا کرتے تھے کہ روح کی صفائی کر و صرف جسم کی صفائی اور کپڑے کی صفائی بہشت میں داخل نہیں کرے گی اور فرمایا کرتے تھے کہ کپڑوں کے پاک کرنے میں وہم سے بہت مبالغہ کرنا اور وضو پر بہت پانی خرچ کرنا اور شک کو یقین کی طرح سمجھ