مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 106
مکتوبات احمد ۱۰۶ جلد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مکتوب نمبر ۲ پہلے سوال کی نسبت میرا صرف یہ مطلب تھا کہ جو شخص قال الله قال الرسول سے سرکشی کرے گا وہ ضرور قابل مواخذہ ہوگا ۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول نے صریح اور صاف لفظوں میں خبر دی ہے کہ اسی امت میں سے مسیح موعود ہوگا اور وعید کے طور پر فرمایا ہے کہ جو شخص اس کو اپنا حکم نہیں ٹھہرائے گا وہ عذاب اور مواخذہ الہی کا مستحق ہوگا اور پھر کون دانا اس سے انکار کر سکتا ہے کہ مسیح موعود کو نہ ماننا موجب سخط اور غضب الہی اور خدا اور رسول کی نافرمانی ہے۔ رہی یہ بات کہ ایسا شخص جو نماز پڑھتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لاتا ہے ۔ وہ مسیح موعود کے نہ ماننے سے ایماندار ہے یا کافر ۔ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کے احکام ہے کہ خدا کے احکام میں سے کسی حکم کو بھی نہ ماننا موجب کفر ہے ۔ جو شخص مثلاً نماز پڑھتا ہے مگر کہتا ہے کہ چوری کرنا اور زنا کرنا اور شراب پینا اور جھوٹ بولنا اور سود کھانا اور خون کرنا کچھ گناہ نہیں ہے۔ وہ کافر ہے کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے احکام کی تکذیب کی اور ان سے انکار کیا۔ زنا کرنا اور شراب پینا وغیرہ معاصی موجب کفر نہیں ہیں ۔ وہ سب گناہ ہیں ۔ مگر ان بدکاریوں کو حلال ٹھہر انا موجب کفر ہیں ۔ پس اسی طرح مسیح موعود سے انکار کرنا اس وجہ سے کفر ہے کہ اس میں خدا اور رسول کے وعدہ اور متواتر پیشگوئی سے انکار ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے کہ ہر ایک مسلمان جو ادنی علم بھی رکھتا ہو۔ اس سے واقف ہے خدا کی حدود کو توڑنا کا فرنہیں کرتا ۔ البتہ فاسق کرتا ہے ۔ مگر خدا کے قول کے برخلاف بولنا کا فر کرتا ہے۔ اس سے کسی کو بھی انکار نہیں ۔ اور امر دوم بھی صاف ہے۔