مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 50

مکتوبات احمد ۵۰ مکتوب نمبر ۱۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي مخدومی مکرمی اخویم سلمہ اللہ تعالی جلد چهارم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته آپ کی خواب انشاء اللہ تعالیٰ نہایت مطابق واقعہ اور درست معلوم ہوتی ہے اور تعبیر صحیح ہے جن لوگوں کو تاویل رویا کا علم نہیں ان کو ان تعبیرات میں کچھ تکلف معلوم ہوگا۔ مگر صاحب تجربہ خوب جانتا ہے کہ رویا کے بارے میں اکثر عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ حقیقت کو ایسے ایسے پیرایوں اور تمثلا پیرایوں اور تمثلات میں بیان فرماتا ہے۔ میں بیان فرماتا ہے۔ مسلم نے انس سے روایت کی ہے کہ تھے۔ ایک مرتبہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خواب دیکھی کہ عقبہ بن را ب دیکھی کہ عقبہ بن رافع کے گھر جو کہ ایک صحابی تھا۔ آپ تشریف رکھتے۔ اسی جگہ ایک شخص طبق رطب ابن طالب کا لایا اور صحابہ کو دیا اور طب ابن طاب ایک خرما کا ختم ہے کہ جس کو ابن طاب نام ایک شخص نے پہلے پہل کہیں سے لا کر اپنے باغ میں لگایا تھا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر کی کہ دنیا و آخرت میں صحابہ کی عاقبت بخیر ورفعت ہے اور حلاوت ایمان سے وہ خوش حال اور متمتع ہیں۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کے نام سے عاقبت کا نام نکالا اور رفع خدا کا نام ہے۔ اس سے رفعت سمجھ لی اور خرماء کی حلاوت سے حلاوت ایمان کی اور ابن طاب میں طاب کا لفظ ہے جس کے معنے ہیں خوشحال ہوا۔ پس اس سے خوشحال ہونے کی بشارت سمجھ لی۔ عرض تعبیر رویا میں ایسی تاویل واقعی اور صحیح ہے۔ آپ کے خواب کی بہت عمدہ بشارت ہے۔ محافظ دفتر کے لفظ سے یاد آتا ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز نے خواب میں دیکھا کہ ایک عالیشان حاکم یا بادشاہ کا ایک جگہ خیمہ لگا ہوا ہے اور لوگوں کے مقدمات فیصل ہور ہے ہیں اور ایسا معلوم ہوا کہ بادشاہ کی طرف سے یہ عاجز محافظ دفتر کا عہدہ رکھتا ہے اور جیسے دفتروں میں مسلیں ہوتی ہیں۔ بہت سی مسلیں پڑی ہوئی ہیں اور اس عاجز کے تحت میں ایک شخص نائب محافظ دفتر کی طرح ہے۔اتنے میں ایک آدمی دوڑا آیا کہ مسلمانوں کی مسل پیش ہونے کا حکم ہے۔ وہ جلد نکالو۔ پس یہ رویا بھی دلالت کر رہا ہے کہ عنایات الہیہ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کی طرف متوجہ ہیں اور یقین کامل ہے اور تو کل کو جو مسلمانوں کو فراموش ہو گئی ہیں پھر خداوند کریم یاد دلائے گا اور بہتوں کو اپنی خاص برکات سے متمتع کرے گا کہ ہر ایک برکت ظاہری اور باطنی اسی کے ہاتھ : بری اور باطنی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس عاجز نے پہلے لکھ دیا تھا کہ آپ اپنے تمام اوزار معمولہ کو بدستور لازم اوقات رکھیں ۔ صرف ایسے طریقوں سے پر ہیز چاہیے جن میں کسی نوع کا شرک با بدعت ہو۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اشراق پر مداومت ثابت نہیں۔ تہجد کے فوت ہونے پر یا سفر سے واپس آ کر پڑھنا ثابت ہے لیکن تعبد میں کوشش کرنا اور کریم کے دروازہ پر پڑے رہنا۔ عین سنت ہے۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ * تشخيذ الاذہان ۔ دسمبر ۱۹۰۶ ء صفحہ ۱۲۰۱۱