مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 43
مکتوبات احمد لدالله جلد چهارم رض نوٹ : اس مکتوب میں ” بہو سے مراد محترمہ صالح بی بی صاحبہ مرحومہ اہلیہ محترم قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی ہیں ۔ موصوفہ نے ۱۳ نومبر ۱۹۵۰ ء کو راولپنڈی میں وفات پائی اور امانتاً دفن ہوئی ۔ آپ کے بیٹے محترم قاضی عبدالسلام صاحب تابوت کو جو قدرت خداوندی سے بالکل محفوظ تھا ربوہ لے آئے اور ۹ ر فروری ۱۹۵۴ء کو انہیں بہشتی مقبرہ میں اپنے خاوند کے دائیں جانب دفن کر دیا گیا۔ قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس موقعہ پر حضرت خلیفہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ ذرہ نوازی بعد ظہر جنازہ پڑھا یا اس سے قبل بھی ان کی وفات پر مسجد مبارک ربوہ میں نماز جمعہ کے بعد جنازہ غائب پڑھا تھا ۔ سو مرحومہ کی یہ خوش قسمتی تھی کہ دو دفعہ خلیفہ وقت نے ان کا جنازہ پڑھا۔ (مرتب) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بحضور امامنا و حبيبنا نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عرضداشت آنکه مهدی حسین صاحب رخصت سے واپس آ گئے ہیں ۔ اب عاجز کے واسطے کیا حکم ہے یہاں کوچہ میں جلد بندی کی بہت چیزیں لڑکے بے خبر اُٹھا لے جاتے ہیں کوئی چیز محفوظ نہیں رہتی ۔ اس سے پہلے یہ عاجز چھا پہ خانہ کے مشرقی دروازہ میں حکیم صاحب کے حکم سے بیٹھتا رہا ہے۔ ہے چونکہ اور کوئی ایسی جگہ موجود نہیں لہذا سال بھر سے زیادہ وہیں گزارہ ہوتا ے مراد مطبع ضیاء الاسلام ہے جو مطب حضرت خلیفہ اول سے ملحق جانب جنوب تھا اور خلافت ثانیہ میں بطور ضیاء ہے جو حضرت خلیفہ سے جنوب تھا اور خلافت ما گیراج استعمال ہوتا رہا۔ اب بھی گیراج کی شکل میں موجود ہے ( مطب اور پریس کے نقشہ کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۱۶/۱۶) حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں کہ بعد ازاں حضرت قاضی صاحب مہمان خانہ کے اس کمرہ میں جلد سازی کی دکان کرتے رہے جو نلکا کے پاس جانب شمال ہے اور اس کا ایک دروازہ احمد یہ بازار میں کھلتا ہے ۔ کے مہتمم تھے اور مراد حضرت د حضرت حکیم مولوی فضل الده۔ الدین صاحب بھیروی ہیں جو مطبع ضیاء ضیاء الاسلام قادیان کے حضور کے جواب میں ان کا ذکر ہے۔