مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 413
مکتوبات احمد ۴۱۳ جلد چهارم حضرت منشی زین الدین محمد ابراہیم صاحب میں سے تھے۔ جناب منشی زین الدین محمد ابراہیم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے مخلصوں تھے ۔ بمبئی میں انجینئر تھے ۔ حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام میں آپ کا ذکر کیا ہے ۔ گویا اس تصنیف کے وقت آ وقت آپ بیعت کر چکے تھے۔ آپ ایک کپڑے کی مل میں انجینئر تھے ۔ عمر کے آخری حصے میں بہت اونچا سننے لگے تھے ۔ آپ نے خلافت ثانیہ کی بیعت بھی کی تھی لیکن بعد میں غیر مبائعین کے ہم خیال ہو گئے ۔ حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب انجام آتھم میں آپ کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ”ہمارے مخلص دوست منشی زین الدین محمد ابراہیم صاحب انجینئر بمبئی وہ ایمانی جوش رکھتے ہیں کہ میں گمان نہیں کر سکتا کہ تمام بمبئی میں ان کا کوئی نظیر بھی ہے ۔ حضرت اقدس نے سراج منیر میں دنیا کو اپنے الہام يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمُ مِّنَ السَّمَاءِ کے تحت اپنے مخلصین لے کی مثال دیتے ہوئے فرمایا ” کہاں ہے بمبئی جس میں منشی زین الدین ابراہیم جیسے مخلص پُر جوش طیار کئے گئے ۔“ اسی طرح حضور آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۸۱ حاشیہ حصہ عربی میں اپنے محسین کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ وو 66 و من الاحباء في الله منشی زین الدین محمد ابراهیم بمبئی کتاب البریہ میں آپ کا ذکر پُرامن جماعت کے ضمن میں فرمایا ہے۔ سراج منیر میں چندہ مہمان خانہ کے ضمن میں بھی آپ کا نام درج ہے ۔ آپ کی وفات ۱۹۲۶ء میں ہوئی۔ وفات کے وقت غیر مبائع تھے اور نظام خلافت سے وابستہ نہ تھے۔ آپ کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے رویا میں دیکھا کہ مولوی عبدالکریم لا تذکرہ صفحہ ۱۹۵ ایڈیشن ۲۰۰۴ء