مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 36

مکتوبات احمد ۳۶ جلد چهارم حالات ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ وہ اپنی تیرہ باطنی کے باعث سے اس کارخانہ کو کسی مکر اور فریب پر مبنی سمجھتے ہیں اور اس کا مقصود اصلی دنیا ہی قرار دیتے ہیں ۔ چونکہ خود جیفہ دنیا میں گرفتار ہیں ۔ اس لئے اپنے حال پر قیاس کر لیتے ہیں ۔ سو ان کی روگردانی بھی خداوند کریم کی حکمت سے باہر نہیں ۔ اس میں بھی بہت سی حکمتیں ہیں جو پیچھے سے ظاہر ہوں گی ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مگر اپنے دوستوں کی نسبت اس عاجز کی یہ دعا ہے کہ ان کو ان کے صدق کا اجر بخشے اور ان کو اپنی استقامت میں بہت مضبوط کرے۔ چونکہ ہر طرف ایک زہرناک ہوا چل رہی ہے اس لئے صادقوں کو کسی قدر غم اٹھانا پڑے گا اور اس غم میں ان کے لئے بہت اجر ہیں ۔ ۹ فروری ۸۳ء بمطابق ۳۰ ربیع الاول ۱۳۰۰ھ مکتوب نمبر ۲ عمل وہی معتبر ہے جس کا خاتمہ بالخیر ہوا اور صدق اور وفاداری سے انجام پذیر ہو اور اس پُرفتنہ زمانہ میں اخیر تک صدق اور وفا کو پہنچانا اور بد باطن لوگوں کے وساوس سے متاثر نہ ہونا سخت مشکل ہے ۔ اس لئے خداوند کریم سے التجا ہے کہ وہ اس عاجز کے دوستوں کو جو ابھی تین چار سے زیادہ نہیں ۔ آپ سکینت اور تسلی بخشے ۔ زمانہ نہایت پُر آشوب ہے۔ اور فریبیوں اور مکاریوں کے افتراؤں نے بدظنیوں اور بدگمانیوں کو افراط تک پہنچا دیا ہے ۔ ایسے زمانہ میں صداقت کی روشنی ایک نئی بات ہے اور اس پر وہی قائم رہ سکتے ہیں ۔ جن کے دلوں کو خداوند کریم آپ مضبوط کرے اور چونکہ خدا وند کریم کی بشارتوں میں تبدیل نہیں اس لئے امید ہے کہ وہ اس ظلمت میں سے بہت نورانی دل پیدا کر کے دکھلاوے گا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے کی ۱۷ رفروری ۸۳ ء بمطابق ۸ ربیع الثانی ۱۳۰۰ھ ☆☆ ، الحکم نمبر ۳۲ جلد ۲ مورخه ۲۲ را کتوبر ۹۸ صفحه ۳