مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 23

مکتوبات احمد جلد چهارم حضرت محمد ابراہیم خاں صاحب محترم محمد ابراہیم خاں صاحب مرحوم کے صاحبزادہ جناب احسان اللہ خاں صاحب سے ذیل کا مکتوب اور کوائف حاصل ہوئے آپ ہائی کمشنر برائے پاکستان متعینہ دہلی کے سیکرٹری کے معزز عہدہ پر سرفراز ہیں ۔ اگست ۱۹۵۲ء میں خاکسار کی وہاں ان سے ملاقات ہوئی تھی ۔ ان کا بیان ہے کہ میرے والد صاحب اور گلزار خان صاحب مرحوم سکنہ کراچی دونوں نے قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کی تھی ۔ یہ غالباً ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء کی بات ہے۔ والد صاحب نے ۲۰ رمئی ۱۹۳۱ء کو بمقام خیر پور ( سندھ) وفات پائی جہاں آپ کی قبر معروف ہے۔ آپ کے ذریعہ مکرم ڈاکٹر حاجی خاں صاحب سابق صدر جماعت کراچی کا خاندان احمدی ہوا ۔ چچا حسن موسیٰ خاں صاحب آسٹریلیا میں کان کنوں کے لئے رسد کے قافلوں کے مینیجر تھے بعد ازاں جنرل مرچنٹ کا کام کرتے رہے آپ نے وہیں سے۱۹۰۳ء میں بیعت کی اور پھر وہیں سے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے عہد مبارک میں قادیان آئے اور غالباً ۱۹۴۳ء میں آسٹریلیا میں بمقام پرتھ (Perth) وفات پائی ۔ عمر بھر وہاں بطور مبلغ کام کرتے رہے۔ اور خلافت ثانیہ سے بھی وابستہ تھے۔ چچا محمد حسین خاں صاحب سناتے تھے کہ میرے والد صاحب کی بیعت کے بعد میں نے بھی بیعت کی اور حضور کی زیارت سے مشرف ہوا۔ محمد حسین خاں صاحب اور گلزار خاں صاحب ( جو غالباً ۱۹۲۶ء میں کراچی میں فوت ہوئے ) اور والد صاحب غیر مبائع خیالات کے تھے ۔ لیکن بالآخر والد صاحب نبوت کے قائل ہو گئے تھے گو انہوں نے باقاعدہ بیعت نہیں کی لیکن انہوں نے مجھے تاکید کی تھی کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بیعت کرلوں چنانچہ مجھے اس کی توفیق لمیر