مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 216
مکتوبات احمد ۲۱۶ جلد چهارم مکتوب نمبر ۶۴ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبتی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامه مع مبلغ ساٹھ کے رو پیه به تفصیل مندرجہ خط پہنچے ۔ جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ ۔ آمین - مقدمه متدائر ۲۴۰ فروری ۱۸۹۹ء کو خارج کیا گیا اور مجھ کو بری کیا گیا اور محمد حسین کو فہمائش کر کے رہا کر دیا گیا مگر بری نہیں ہوا۔ جانبین سے دونوٹسوں پر دستخط کرائے گئے کہ آئندہ کسی کی موت کی پیشگوئی نہ کریں اور ایک دوسرے فریق کو کافر اور کذاب اور دجال نہ لکھیں ۔ قادیان کو چھوٹے کاف سے نہ لکھیں اور نہ بٹالہ کو طاء سے اور محمد حسین کو یہ بھی فہمائش ہوئی کہ وہ اپنے دوستوں کو گندی گالیاں اور نخش گوئی سے روکے۔ غرض اس طرح پر مقدمہ فیصلہ ہو گیا ۔ اب میں اِنْشَاءَ اللهُ الْقَدِيرُ آپ کے لئے دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس جگہ سے بخیر و عافیت جلد لاوے۔ باقی سب طرح سے خیریت ہے۔ ۳ مارچ ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۶۵ * بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محتی عزیزی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل کی ڈاک کے ار مارچ ۱۸۹۹ء کو مبلغ پچاس فت روپیہ مرسلہ آپ کے پہنچے۔ جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا ۔ مجھے خوف ہے کہ آپ نے جو چند دفعہ پچاس منه ، پچاس مت روپے بھیجے ہیں یہ امر آپ کی تکلیف اور آپ کے حرج کا موجب نہ ہو۔ آپ کا محبت اور اخلاص ایک امر ہے۔ جو پختہ یقین سے مرکوز خاطر