مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 151
مکتوبات احمد ۱۵۱ جلد چهارم مدت تک قید رہے ۔ ان تمام واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ سچے اور راستباز لوگ اپنے وقت کے مولویوں سے دکھ اٹھاتے رہے ہیں ۔ غور کر کے دیکھنا چاہئے کہ سید عبدالقادر صاحب کی آج کل کیسی عظمت لوگوں کے دلوں میں ہے لیکن اس زمانے میں جب مولویوں نے انہیں کافر ٹھہرایا تو برا بر دو سو برس تک کسی نے ان کا نام نہیں لیا۔ الا ماشاء اللہ ۔ پھر بعد اس کے عبداللہ یافعی پیدا ہوئے تو انہوں نے سن سنا کر ان کے حالات اور خوارق لکھے اور ایک یہ امر بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جب کوئی ایسا ز ا ہد و عابد خلق اللہ کو اپنی طرف بلاتا ہے جس کو بجز خاموشی و گوشه گزینی کے اور ذکر الہی کے اور کوئی خدمت منجانب اللہ سپر نہیں ہوتی اس کی محبت جلد تر دلوں میں بیٹھ جاتی ہے اور اس کے بارے میں لوگوں کو کوئی ابتلا پیش نہیں آتا۔ لیکن جب کوئی ایسا ما مور من اللہ ظاہر ہوتا ہے جس کا منصب اور فرض یہ ہو کہ وہ اصلاح خلق اللہ کرے اور علماء اور فقرا کی غلطیاں ے بر پا ہو ان پر کھولے اور ایسے ایسے ت ایسے تصفیہ طلب امور کا فیصلہ کرے جن سے بڑے بڑے جھگڑے جائیں تو ایسے شخص کے ظہور کے وقت یہ امر ضروری ہوتا ہے کہ علماء فضلا ء اس کے دشمن جانی بن جائیں ۔ مثلاً دیکھنا چاہیے کہ جس قدر یہودیوں اور عیسائیوں کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذاتی عداوت و عناد ہے ۔ وہ سکھوں کے بابا نانک سے ہرگز نہیں اس کی کیا وجہ ہے یہی تو ہے کہ بابا نانک خواہ کیسا ہی ہے ۔ ۔۔ مگر اس کو یہود و نصاری کی غلطیوں کی اصلاح اصلاح ۔ سے کچھ تعلق و واسطہ نہ تھا اور بجز خاموشی و گوشه گزینی کے اور کوئی اس کا کام نہ تھا۔ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کے لئے آئے کہ تا اصلاح خلق اللہ کریں اور جو جو غلطیاں لوگوں نے اپنے راہوں میں ڈال رکھی ہیں ۔ ان کو ان سے متنبہ کریں سو بلا شبہ یہ طریق ایسا ہی ہے جس سے نفسانی آدمی ایسے مصلح کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں اور تاریکی سے پیار کرنے والے ہرگز نہیں چاہتے کہ نور کی اشاعت ہو ۔ غرض اس وجہ سے جو لوگ اصلاح خلق اللہ کے لئے مامور ہو کر آتے ہیں پہلے دشمن ان کے ہر ایک گروہ کے مولوی اور فقیہ ہی ہوتے ہیں ورنہ گوشہ گزین زاہدوں عابدوں سے خواہ وہ ربانی ہوں یا صرف مزور ہوں مولویوں کو کچھ غرض و واسطہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی طرف رجوع کر لیتے ہیں ۔ ہمارے دیکھنے کی بات ہے کہ ہمارے اس ضلع میں ایک موضع رتر چهتر نام یا مکان شریف کے اسم سے موسوم ہے اس میں ایک صاحب امام علی شاہ نام رہا