مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 145
مکتوبات احمد ۱۴۵ جلد چهارم مکتوب نمبرا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکرمی اخویم مولوی خدا بخش صاحب سلمه تعالی نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ مجھے نہایت افسوس ہے کہ میں اس جماعت پر نظر ڈال کر جنہوں نے مجھ سے بیعت کی ہے اپنے دل سے یہ فتویٰ نہیں پاتا کہ وہ لوگ اس کار براری کا ذریعہ ہوسکیں کیونکہ قریباً اکثر لوگ اُن میں سقیم الحال اور مسکین اور تنگدست اور تنگ حال ہیں اور بعض شائد ادنی درجہ کے وسعت رکھتے ہوں مگر ان کے لئے یہ سوال ابتلا اور آزمائش ہوگا جس سے ان کی یہ حالت کے بگڑ جانے کا اندیشہ ہے ۔ کیونکہ آج کل کی طبیعتوں میں سوءظن بہت ہے۔ جنہوں نے بیعت کی ہے بالفعل ان کی اسم نویسی ہو گئی ہے۔ ابھی میرے پر نہیں کھلا کہ ان میں سے واقعی طور پر سچا معتقد اور اور مخلص کون ہے اور پھسلنے والا اور لغزش کھانے والا کون ہے ۔ البتہ اگر خدا تعالیٰ نے چاہا دو تین برسوں تک ایسے آدمیوں کا گروہ پیدا ہو جاوے گا جو سچا اخلاص رکھتے ہوں تب وہ اسلام اور مسلمانوں کے کام آئیں گے ابھی ان کچے حالات والوں کو ٹولنا فراست ایمانی سے بعید ہے میرا دل صاف شہادت دے رہا ہے کہ ابھی یہ لوگ کوئی کام نہیں کر سکتے مجھے آپ کے کام میں دل و جان سے دریغ نہیں ۔ مگر جو طریق ہو نہار نظر نہیں آتا بلکہ اس میں فساد دکھلا ئی دیتا ہے اس کا اختیار کرنا آپ کے لئے کچھ مفید نہیں ۔ لوگ ابھی نہایت کچے ہیں اور ادنی خیال سے بگڑنے پر مستعد اور نیز روحانی تعارف مجھ سے نہیں رکھتے ۔ بہت باتیں ایسی بھی ہیں جو اس خط میں قابل تحریر نہیں اگر آپ رو برو ہوں تو آپ پر ظاہر کی جائیں ۔ اس لئے بالفعل یہ راہ مسدود ہوں تو آپ پر ہے اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو کسی وقت کھل جائے گا ۔ خدائے واحد جلشانہ شاہد ہے کہ اس عاجز کو آپ کی نسبت نہایت دل سوزی و ہمدردی ہے مگر آپ پر یہ آزمائش کا وقت ہے کہ کامیابی کی راہ میں مشکلات ہیں آپ سب طرف سے پاس کلی کر کے خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور استغفار بہت