مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 125

مکتوبات احمد ۱۲۵ جلد چهارم حضرت قاضی امیر حسین صاحب آف بھیرہ حضرت قاضی امیر حسین رضی اللہ عنہ بخاری سید تھے ۔ آپ کی ولاد پ کی ولادت ۱۸۴۸ء : ۱۸ء میں بھیرہ میں ہوئی ۔مغلوں کے عہد میں آپ کے آباء کو قاضی کا جلیل القدر عہدہ ملا تھا ۔ حصول تعلیم کا آغاز جوانی کے عالم میں ہوا۔ اس سے قبل اپنے والد صاحب کے ساتھ گھوڑوں کی تجارت کرتے تھے۔ سہارن پور کے مدرسہ مظہر العلوم سے تعلیم کی تکمیل کی ۔ جب واپس بھیرہ تشریف لائے تو محلہ قاضیاں میں اپنی خاندانی مسجد میں حدیث کا درس دیا کرتے تھے ۔ آپ کی شادی حضرت حکیم مولانا نور الدین صاحب کی بھانجی سے ہوئی ۔ آپ نے مدرسة المسلمين، امرتسر میں ملازمت کا آغاز کیا۔ مئی ۱۸۹۳ء میں جنگ مقدس ( مباحثہ پادری عبد اللہ آتھم ) امرتسر کے دوسرے روز آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کی کہ میری دعوت منظور فرماویں ۔ حضرت نے آپ کی دعوت کو حضرت شیخ نور احمد صاحب کی منظوری پر رکھا ۔ حضرت قاضی صاحب نے دعوت کی حضرت اقدس نے منظوری دے دی ۔ اس دعوت کے بعد حضرت قاضی صاحب نے بیعت کر لی ۔ تم آپ امرتسر سے ملازمت چھوڑ کر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان آ گئے ۔ آپ کے شاگردوں میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد (خلیفہ المسیح الثانی) اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب شامل تھے ۔ جبیر الصوت‘ ہونے کے باوجود کلام الہی کی تلاوت آہستہ آہستہ کرتے تھے ۔ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل آپ کی قرآن فہمی کی اکثر داد دیتے تھے اور ان کے قرآنی نکات کی قدر کرتے تھے۔ آپ حضرت مسیح موعود کے عشق و محبت اور آپ کی اطاعت میں گداز تھے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو خدا تعالیٰ کی ایک آیت رحمت یقین کرتے تھے ۔ آپ کے