مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 74
مکتوبات احمد ۷۴ جلد سوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبرے محی اخویم میاں عبدالمجید خاں صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ چاول اور آم مرسلہ آپ کے پہنچ گئے ۔ جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا ۔ ایک گھوڑی نہایت عمدہ نسل کی دہنی گھیپ کے علاقے کی ہے ۔ عمدہ قد کی ہے اور خوب چالاک اور ساری خوبیاں اس کے اندر ہیں اور عمر کی جوان بچھری یعنی نوجوان ۔ صرف یہ بات ہے کہ ذرا ڈرتی ہے اور ہمارے بچے کمزور ہیں۔ میں خود اندیشہ کرتا ہوں کہ اس چالاک گھوڑی پر سواری ان کے مناسب نہیں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی پاس شدہ ہے اور اس پر ای۔ آئی کمپنی کا داغ دیا ہوا ہے۔ صرف بہ باعث خوف و ڈر اس کے میرا یہ ارادہ ہے کہ اس کے عوض کوئی اور گھوڑی اصیل جو ڈرتی نہ ہو اور ناخن نہ لیتی ہو اور بد لگام نہ ہو اور چک گیر نہ ہو ، چال بہت صاف بغیر ٹھوکر کے ہو ، خرید لی جائے اور میرے خیال میں آپ اس کام کو بخوبی انجام دے سکتے ہیں اور آپ کا اختیار ہے کہ اس جگہ اور گھوڑی بدلا کر بھیج دیں یا اس کو بیچ کر اور گھوڑی عمدہ خرید کر بھیج دیں اور ضرور توجہ کر کے اس کام کو انجام دیں نہایت تاکید ہے۔ اور آپ ایک ہوشیار آدمی بھیج کر گھوڑی منگوا لیں اور ہم اس جگہ سے اس کے ہمراہ اپنا ایک آدمی کر دیں گے ۔ ۲۶ را گست ۱۹۰۶ء والسلام مرزا غلام احمد از قادیان (نوٹ) اس مکتوب سے ظاہر ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اعلیٰ درجے موعود کے شاہ سوار تھے ۔ جو ہدایات آپ نے گھوڑی کی خرید کے متعلق دی ہیں ان سے اس علم کا بھی پتہ لگتا ہے جو گھوڑوں کی خوبی کے متعلق آپ کو تھا۔ نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے بچپن ہی سے صاحبزادوں کی تربیت ایک ایسے رنگ میں فرمائی جو ان کی آئندہ زندگی کے ساتھ ایک خاص تعلق رکھتا ہے ، خصوصیت سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی تربیت میں آپ کو خاص شغف تھا۔ یہ گھوڑی حضرت امیر المومنین ہی کی سواری کے لئے لی گئی تھی اور حضرت امیر المومنین ایک عمدہ شاہ سوار ہیں ۔