مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 536
مکتوبات احمد ۳۹۶ جلد سوم بسا اوقات داسی اسی تعلق کی برکت سے سے دنیوی تلخیاں فراموش ہوجاتی ہو جاتی ہیں۔ ہیں یہاں ۔ یہاں تک تک انبیا کہ انبیاء علیہ علیہم السلا السلام بھی اس تعلق کے محتاج تھے ۔ جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی غمگین ہوتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے تھے کہ اَرِحْنَا يَا عَائِشَةُ یعنی یا عائشہ ہمیں خوش کر کہ ہم اس وقت غمگین ہیں ۔ اس سے ثابت ہے کہ اپنی پیاری بیوی یا ر موافق ، رئیس عزیز ہے جو اولاد کی ہمدردی میں شریک غالب اور غم کو دور کرنے والی اور خانہ داری کے معاملات کی متولی ہوتی ہے جب وہ یکدفعہ دنیا سے گزر جاوے تو کیسا صدمہ ہے اور کیسی تنہائی کی تاریکی چاروں طرف نظر آتی اور گھر ڈراؤنا معلوم ہوتا ہے اور دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے۔ سواس الہام میں خدا تعالیٰ نے یہی یاد دلایا ہے کہ اس صدمہ سے دنیا میں قدم آگے رکھو ۔ نماز کے پابند اور سچے مسلمان بنو ۔ اگر ایسا کرو گے تو خدا جلد اس کا عوض دے گا اور غم کو بھلا دے گا ۔ وہ ہر یک بات پر قادر ہے۔ یہ الہام تھا اور پیغام تھا اس کے بعد آپ ایک تازہ تازه نمونه دین داری کا دکھلا ئیں ۔ خدا بر حق ہے اور اس کے حکم برحق ہیں ۔ تقوی سے غموں کو دور کر دیتا ہے۔ ۲۲ نومبر ۹۸ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان الحکم نمبر ۳۶ جلد ۷ مورخه ۳۰ رستمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۵