مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 513
مکتوبات احمد ۳۷۳ جلد سوم میں سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر سچ کہتا ہوں ۔ کیونکہ مجھے کوئی بات جھوٹ کہنے پر مجبور نہیں کرتی ۔ اگر دین کی ترقی چاہتے ہو اور اس خاتم الانبیاء کے پیارے بننا چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی عزت حاصل کرنی چاہتے ہو تو اس مسیح موعود کا دامن پکڑو جو کہ اس آخری زمانہ کا امام ہے اور اگر دنیا میں عزت اور آسودگی اور کشائش رزق چاہتے ہو تو بھی اس مسیح موعود کے آگے بسر تسلیم خم کرو کیونکہ یہ سچی اطاعت کی راہ بتلاتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ اپنے فرض منصبی کو پورا کرنا کس قد ر ضروری ہے۔ والسلام مرقومہ آخری اپریل ۱۹۰۵ء مرز الیعقوب بیگ ایل ۔ ایم ۔ ایس اسٹنٹ سرجن از فاضل کا مکتوب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی مرزا ایوب بیگ صاحب و محبی عزیزی مرز ا یعقوب بیگ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس وقت جو میں دردسر اور موسمی تپ سے یک دفعہ سخت بیمار ہو گیا ہوں ۔ مجھ کو تا رملی ۔ جس قدر میں عزیزی مرزا ایوب بیگ کے لئے دعا میں مشغول ہوں اس کا علم تو خدا تعالیٰ کو ہے ۔ خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہرگز ناامید نہ ہونا چاہئے۔ میں تو سخت بیماری میں بھی آنے سے فرق نہ کرتا لیکن میں تکلیف کی حالت میں ایسے عزیز کو دیکھ نہیں سکتا ۔ میرا دل جلد صدمہ قبول کرتا ہے ۔ یہی چاہتا ہوں کہ تندرستی اور صحت میں دیکھوں۔ جہاں تک انسانی طاقت ہے اب میں اس سے زیادہ کوشش کروں گا۔ مجھے پاس اور نزدیک سمجھیں نہ ڈور ۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں اس درددل کو بیان کروں ۔ خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہرگز نا اُمید مت ہو ۔ خدا بڑے کرم اور خط اور فضل کا مالک ہے اس کی قدرت اور فضل اور رحمت سے کیا دور ہے کہ عزیزی ایوب بیگ کو تندرستی میں جلد تر دیکھوں ۔ اس علالت کے وقت جو تار مجھ کو ملی ، میں ایسا سراسیمہ ہوں کہ قلم ہاتھ سے چلی جاتی ہے ۔ میرے گھر میں بھی