مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 497 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 497

مکتوبات احمد ۳۵۷ جلد سوم محبت بھڑ کا ہوا تھا۔ سال ۱۸۹۰ ء یعنی ایام طالب علمی سے جب کہ خاکسارا بھی انٹرنس میں تعلیم پاتا تھا۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضور کے ساتھ تعلق اخلاص مندی نصیب ہوا جس کو اب چودھواں و سال جا رہا ہے۔ بفضلہ تعالی اس تعلق میں روز افزوں ترقی ہی ہوتی چلی آئی اور یہ رشتہ دن بدن مستحکم ہی ہوتا گیا اور بتدریج محسوس ہوتا گیا کہ اس پیوند کی مضبوط رسی کے ذریعے عالم تاریکی سے ایک بین روشنی کی طرف کھینچا جا رہا ہوں اور الفت و محبت قلبی نے تو ایسی ترقی کی کہ چھ سات سال سے بڑے جوش کے ساتھ یہی دلی خواہش رہی کہ کوئی صورت ایسی پیدا ہو کہ بقیہ ایام زندگی حضور کے بابرکت اور سراپا نور خیز قدموں میں گزاروں ۔ جس سے دین و دنیا کی اصلاح ہو کر حسنات دارین سے مستفیض و بہرہ مند ہوں ۔ کیونکہ جب ایسا مبارک زمانہ پایا ہے اور ایسی نعمت غیر مترقبہ نصیب ہوئی ہے تو اس کی قدر نہ کرنا اور ایسی نعمت الہی سے وقت پر مستمتع نہ ہونا محض شومئی قسمت کا باعث ہے ۔ ۔ چونکہ دل میں بڑے ذوق کے ساتھ اس امر کی گدگدی و چاہت لگی ہوئی تھی ۔ اس کے ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد دل و دماغ نے یہی مشورہ و فتوی دیا کہ مرسل صادق کے مبارک قدموں میں زندگی گزارنا تمہارا مقصود بالذات ہونا چاہئے اس لئے اس غرض کے حصول کے لئے کئی بار یہاں دارالامان کے مقیم احباب و برادران کو تصدیعہ دیتا رہا ۔ چنانچہ ایک دفعہ نومبر ۱۹۰۰ء میں مکرمی اخویم جناب مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے نے ایک ایسی صورت پیدا بھی کر دی تھی کہ خاکسار اسی وقت مستقل طور پر یہاں آجاتا مگر کچھ نا سازی قسمت و مخالفوں کی سعی سے اس وقت کا میابی کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا کیونکہ اس وقت مخالف آر آریہ افسروں نے عمداً وقت پر رخصت سے ا کرنے دیا حالانکہ اس وقت حضور کی جانب سے بھی آنے کے لئے اجازت ہو چکی تھی ۔ سے استفادہ نہ اس وقت عاجز کے نہایت ہی مکرم و محسن و فخر قوم جناب مخدومی مکرمی مولوی عبدالکریم صاحب نے جن الفاظ سے خاکسار کو خطاب کیا تھا وہ الفاظ اب تک عاجز کے لوح قلب پر نقش بر سنگ کی طرح منقش ہیں جو یہ ہیں ۔ حج وونج دونوں ہاتھ آویں پھر آنے میں کیا تامل ہے۔ اس نعمت کے لینے میں ہرگز توقف نہ چاہئے ۔“ وو سو واقعی سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ جب ہر دو چیزیں حاصل ہو جاویں پھر اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے ۔ اوّل الذکر کے لئے تو مامور ومرسل الہی کی صحبت و خاکپائی کا شرف کافی ۔ امر دوم کے