مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 450
مکتوبات احمد ۳۱۰ چو صوف و صفا در دل آمیختند مداد از سواد عیون ریختند جب صفائی کا صوف دل میں ملاتے ہیں تو آنکھوں کی سیاہی سے روشنی ڈالتے ہیں و دو چیز است چوپان دنیا و دیں دل روشن دیده دور بین دو چیزیں دین و دنیا کی محافظ ہیں ایک تو روشن دل دوسرے دور اندیش نظر خدا راست آن بندگانِ کرام که از بهر شان میکند صبح و شام خدا کے نیک بندے ایسے بھی ہیں جن کے لیے خدا صبح و شام کو پیدا کرتا ہے بدنبال چشمے، چومے بنگرند جہانے بدنبال خود می کشند جب وہ کن انکھیوں سے دیکھتے ہیں تو ایک جہان کو اپنے پیچھے کھینچ لیتے ہیں اثر هاست در گفتگو ہائے شاں چکد نور وحدت زِ روہائے شان ان کے کلام میں اثر ہوتا ہے اور ان کے چہروں سے توحید کا نور ٹپکتا ہے در او شان به اظہار ہر خیر و شر نهادست حق خاصیت مستتر ان میں نیکی اور بدی کے اظہار کے لیے خدا تعالیٰ نے مخفی خاصیت رکھ دی ہے بگفتن اگر چه خدا ولی از خدا هم جدا نیستند اگرچہ کہنے کو خدا نہیں ہیں لیکن خدا جدا بھی نہیں ہیں کسے را که او ظل يزدان بود قیاسش بخود جہل و طغیاں بود جو شخص خدا کا ظل ہو اس کو اپنے پر قیاس کرنا جہالت اور سر کشی ہے بردش ازاں سو گر آید کتاب ازیں سو ، بزودی بگویم جواب اس کے رد میں اگر کوئی کتاب شائع ہو تو میں اس طرف سے فوراً جواب دوں گا ولیکن باید کتابی تمام که باشد محیط ما گرام مگر یہ چاہیے کہ وہ کتاب پوری ہو اور تمام مقاصد پر حاوی ہو عہدے کہ کردم نگردم گہے نه گردم رباید صبا زیں رہے میں کبھی اس عہد سے نہیں پھروں گا جو میں نے کیا ہے ہوا میری گرد کو بھی اس رستے سے نہیں ہٹا سکتی وہ نیستند سے ہمہ جلد سوم