مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 445
مکتوبات احمد سخن آن چنان باید و ۳۰۵ جلد سوم استوار حاصل سخن گفتن نابکار چه بات ایسی ہی عمدہ اور پختہ ہونی چاہیے بے سود باتیں کرنے کا کیا فائدہ! خموشی به از گفتن این چنیں کہ لب با نه جنباند از آفریں ایسی (فضول) باتوں سے تو چپ رہنا اچھا ہے جو لوگوں کے منہ سے تعریف حاصل نہیں کر سکتیں سخن معدن در و سیم و طلاست اگر نیک دانی ہمیں کیمیاست کلام تو موتی ، چاندی اور سونے کی کان ہے اگر تو اس بات کو خوب سمجھ لے تو یہی کیمیا ہے سخن گرچه باشد چو لولوئے تر گزاریدنش نیز خواهد هنر بات اگرچہ گوہر آبدار کی طرح ہو مگر اس کے پیش کرنے کو بھی ہنر چاہیے سخن قامتے هست با اعتدال فصاحت چو خدّ و بناگوش و خال در کلام کی مثال ایک خوبصورت قد کی سی ہے اور اس کی فصاحت رخسار، نوک اور تل کی طرح ہے چو گفتار باشد بلیغ و اتم اثر ها کند دلے لا جرم جب کلام بلیغ اور اعلیٰ ہوتا ہے تو ضرور دل پر اثر کرتا وگر منطقه مهمل است و خراب چو خواب پریشان رود بے حساب ہے لیکن اگر گفتگو بے معنی اور خراب ہو تو وہ خواب پریشاں کی طرح رائیگاں جاتی ہے طلاقت نگیرد بجز علم و فن زباں گرچہ بحری بود موجزن کیسے کو ندارد وقوفی تمام زبان اگر چه طوفانی سمندر کی طرح ہو پھر بھی فصاحت بغیر علم و فضل کے نہیں آتی چه طورش سیاقت بود در کلام جو شخص (زبان کی پوری واقفیت نہیں رکھتا اس کے کلام میں روانی کیونکر آ سکتی ہے محمد اللہ کال مشفق پُر سداد دریں جملہ اوصاف یکتا فتاد خدا کا شکر ہے کہ آپ جیسا مخلص شفیق ان سب صفات میں یکتا ہے عجب ذوق میداشت آن روز چند که بودیم وہ دن نہایت پُر لطف تھے جب ہم آپ کی بابرکت خدمت میں حاضر تھے لے اگر لفظ سیاق میں جس کے معنی روانگی ہے۔ شاید جائز ہو ۔ تو سیاقت ہے ۔ ورنہ لیاقت ۔ ( ظفر احمد ) در خدمت ارجمند