مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 443 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 443

مکتوبات احمد ٣٠٣ اس بے مکتوب نمبرا مکتوب در مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم و بمہ عالم آرائے را سے سپاس آن خداوند یکتائے را بمهر بے مثل خداوند کا شکر ہے جس نے دنیا کو چاند ند اور سورج آراستہ کیا بهر لحظه امید یاری از وست بہر حالتے دوست داری از وست ہمیں ہر وقت اس کی طرف سے مدد کی امید ہے اور ہر حالت میں اسی سے محبت کا تعلق ہے خنک نیک بختی که در یاد اوست جہاں جملہ یک صنعت آباد اوست سارا جہاں اسی کی کاریگری کا مظہر ہے خوش قسمت ہے وہ نیک بخت جو اس کی یاد میں رہتا ہے رسول خدا پر تو از نور اوست ہمہ خیر ما زیر مقدور اوست رسول اللہ اس کے نور کا پرتو ہیں اور ہماری ساری بھلائیاں انہیں کے ساتھ وابستہ ہیں ہماں سرور و سید و نور جاں محمد کزو بست نقش جہاں وہی سردار، سید اور جاں کا نور محمد ہے جس کی وجہ سے جہان کی تخلیق ہوئی بشر کے بدی از ملک نیک تر نہ بودے اگر چون محمد بشر انسان فرشتے سے کیوں کر بڑھ جاتا اگر محمد سا بشر پیدا نہ ہوتا دلش هست نورانی و سرمدی بتابد فرة ایزدی اس کا دل نورانی اور ازلی ہے اور اس میں خدا کی عظمت اور شان چمکتی ہے کسے کش بود مصطفیٰ رہنما سر بخت او باشد اندر سماء وہ شخص جس کا رہنما مصطفیٰ ہو اس کا نصیبہ بلندی میں آسمان تک پہنچتا ہے پُر از یاد او هست جان و دلم بخواب اندر اندیشہ ہم نکسلم درو میرے جان و دل اس کی یاد سے معمور ہیں خواب میں بھی مجھے کوئی دوسرا خیال نہیں آتا پس از دے سلام بتو اے شفیق کرم گستر و ہم رہ و ہم طریق دوست میں تجھے سلام کہتا ہوں اس کے بعد اے مہربان اور شفیق اور ہم خیال جلد سوم