مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 425
مکتوبات احمد ۲۸۵ حضرت مولوی عبد القادر صاحب لود بانوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام تعارفی نوٹ حضرت مولوی عبد القادر صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے براہین احمدیہ کے زمانے سے عقیدت وارادت رکھتے تھے اور قدیم طرز کے علماء میں سے یہ ایک ایسے بزرگ تھے جو سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے با وجود قدیم وضع کے عالم ہونے کے اخلاص کے رنگ میں رنگین ہوئے ۔ وہ ایک جید عالم بڑے تھے ۔ حنفی المذہب تھے ۔ آپ کے والد ماجد مولوی مولوی محمد موسیٰ صاحب رضی اللہ عنہ بھی بڑ عالم تھے۔ لودہا نہ میں ان کا مدرسہ بڑی شان کا مدرسہ تھا۔ اسی مدرسے سے مکرمی مولوی ابوالبقا صاحب بقا پوری اور ان کے برادر بزرگ مولوی حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب بقا پوری رضی اللہ عنہ انہیں کے شاگردوں میں سے ہیں ۔ حضرت مولوی عبدالقادر صاحب کو تبلیغ کا بہت شوق اور جوش تھا اور وہ جہاں جاتے حضرت اقدس کے دعوے اور دلائل کو پیش کرتے اور علماء میں تبلیغ کرتے رہتے ۔ خاکسار عرفانی سے ۱۸۸۹ء سے تعلقات اخوت تھے۔ وہ مولوی مشتاق احمد صاحب کے پاس باقاعدہ آیا کرتے تھے اور مولوی صاحب موصوف میرے استاد تھے ۔ افسوس ہے ان کو ہدایت نہ ہوئی ۔ ان کا ذکر مکتوبات کی چوتھی جلد کے دوسرے نمبر میں آئے گا۔ جہاں ان کے نام کا خط درج ہو گا ۔ غرض حضرت مولوی عبد القادر صاحب رضی اللہ عنہ سلسلے کے اولین علماء میں سے ایک نہایت مخلص اور جید عالم تھے ۔ وہ خود لکھنے سے قاصر تھے اس لئے لودہا نہ میں عموماً میر عباس علی صاحب کے خطوط میں جو کچھ عرض کرنا ہوتا کر دیتے تھے اور ان کے خطوط ہی میں جواب مل جاتا تھا اور کثرت سے قادیان آتے رہتے تھے اس لئے کچھ زیادہ خط و کتابت نہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنے بیکراں فضل کرے ۔ آمین ۔ (خاکسار عرفانی) جلد سوم