مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 36
مکتوبات احمد ۳۶ جلد سوم نواب صاحب نے دعا و سلامتی ایمان اور نجات آخرت کے لئے ایک آدمی حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجا اور جوں جوں وقت آتا جاتا تھا ۔ آدھ آدھ گھنٹہ اور دس دس۔ س منٹ کے بعد آدمی بھیجتے رہے اور کہتے رہے کہ میں بڑا خوش ہوں کہ آپ میرے اخیر وقت میں لودہا نہ تشریف رکھتے ہیں اور مجھے دعا کرانے کا موقع ملا ۔ پھر بیہوشی طاری ہو گئی لیکن جب ذرا بھی ہوش آتا تو کہتے کہ حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں آدمی جائے اور عاقبت بخیر اور اچھے انجام کے لئے عرض کرے ۔ اور جب حالت نزع طاری ہوئی تو یہ وصیت کی کہ میرے جنازہ کی نماز حضرت مرزا صاحب پڑھا ئیں تا کہ میری نجات ہو۔ اِدھر حضرت اقدس بھی نواب صاحب کے لئے بہت دعائیں کرتے رہے اور ہر بار آدمی سے یہی فرماتے رہے کہ ہاں ہاں ! تمہارے واسطے دعائیں کیں اور کر رہا ہوں اور یہ وصیت نماز جنازہ بھی حضرت اقدس تک پہنچادی اور نواب صاحب مرحوم کا انتقال ہو گیا ۔ جب نواب صاحب کا انتقال ہوا تو نواب صاحب کے اقرباء ان کی اولاد اور بھائی مولویوں کے زیر اثر اور مرعوب تھے اور مولوی محمد اور مولوی عبداللہ اور مولوی عبدالعزیز یہ تینوں حضرت اقدس علیہ السلام کے مکفر اور مکفرین اولین میں سے تھے۔ تینوں یہود صفت بلکہ ان سے بھی بڑھ چڑھ کر تھے اور اُس وقت سے مکفر اور سخت مخالف تھے کہ جب سے براہین احمد یہ شائع ہوئی تھی ۔ تمام مولوی خاموش یا موافق تھے ۔ مگر یہ بد قسمت اور ایک بد بخت مولوی یہ غلام دستگیر قصوری مخالف ، تکفیر کے علاوہ سب وشتم کرنے تکفیر کے علاوہ سب وشتم کرنے والے تھے اور ان مولو ن مولویوں کی عادت تھی کہ جو مولوی درویش لودہا نہ میں آیا اور ان سے مل لیا تو خیر اور جو نہ ملا تو بس اُس کو کفر کا نشانہ بنایا۔ یہ تینوں مثلث مولوی اس آیت کے مصداق تھے کہ انْطَلِقُوا إلى ظلَّ ذِي ثَلْثِ شُعَبٍ لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّهَبِ لے چلو اس تین رنے سایہ کی طرف جس میں نہ سایہ ہے، نہ ٹھنڈک ہے اور نہ گرم لپٹ سے بچاؤ کی کوئی صورت ہے ۔ انہوں نے اُس زمانہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کی مخالفت میں ایک قیامت بر پا کر رکھی تھی ۔ ان مولویوں کو بھی خبر نواب صاحب کی وصیت نماز جنازہ پہنچ چکی تھی ۔ ان مولویوں ل المرسلت : ۳۲،۳۱