مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 26
مکتوبات احمد ۲۶ جلد سوم مجھ کو آپ قوت دی اور میری نادانی کو دیکھ کر مجھ کو آپ علم بخشا۔ میرے حال پر وہ عنا، کودیکھ کو علم عنایتیں کیں جن کو میں گن نہیں سکتا اور اس کی عنایات کا ایک یہ ظہور ہے کہ آپ جیسے بزرگ بھائیوں کے دلوں میں اس احقر کی محبت ڈال دی ۔ سو اس کے احسانات سے تعلق ہے کہ اس حُبّ کو ترقی دے گا اور وہ ان سب پر فضل کرے گا جن کو اس سلک میں منسلک کیا ہے ۔ اس خط کی تحریر کے بعد یہ شعر کسی بزرگ کا الہام ہوا۔ ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق ثبت است بر جريدة عالم دوام ما (۲۸ / مارچ ۱۸۸۴ء مطابق ۲۹ / جمادی الاول ۱۳۰۱ھ ) (نوٹ ) اس مکتوب سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دل پر محبت و عظمت الہی کا بے انتہا غلبہ ہے اور اپنی فروتنی ، مسکینی اور خاکساری کا کمال بھی نمایاں ہے۔ انہی تفصلات اور انعامات پر شکر گزاری کی روح آپ کے اندر بول رہی ہے اور جو عشق و محبت آپ کو حضرت باری عزّ اسمہ سے ہے اس کی صداقت اس الہام باری سے ہوتی ہے جو اس مکتوب کی تحریر کے بعد آپ کو ہوا ۔ ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق ثبت است بر جريدة عالم دوام ما یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غیر فانی اور ابدی زندگی اور دنیا میں شہرت دوام اور امٹ ہونے کی عظیم الشان پیشگوئی کو لئے ہوئے ہے۔ آج ساٹھ برس بعد اس کی شہادت روئے زمین کے بسنے والے ہر ملک اور ہر قوم میں دے رہے ہیں اور دنیا کی ہر زبان میں یہ نام مبارک پہنچ چکا ہے ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكُ وَسَلِّمُ ۔ تذکره صفحه ۹۷ مطبوعه ۲۰۰۴ء